اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خوف زادہ - بھوک

  بھوک !  خوف زادہ ہوں میں تیری امید سے کچھ زیادہ ہوں میں  تیرے جوتوں کے نیچے بچھے تخت کو  تیرا تختہ بنا کر کسی نہر میں نہ بہا دوں تو کہنا  کہ میں ، میں نہیں  بادشاہا !  ترے سر پہ رکھا ہوا تاج !  نالے میں بہتا نظر آے گا  ڈر مری بھوک سے  بھوک بڑھنے لگی گر تو سُن تاجور !  میں تری اکڑی گردن پہ رکھے ہوئے  سُرخ تربوز کو  پھوڑ کر خون کا جوس پی جاوں گا  فاقہ کش ہوں مگر  بھوک بڑھتی رہی تو تری ہڈیاں تک چبا جاوں گا  تجھ کو کھا جاوں گا                                    خوف زادہ ہوں میں  تیری امید سے کچھ زیادہ ہوں میں  میں کہ نسلوں کی اینزائٹی کا ثمر  میں کہ پُرکھوں کے مادہِ تولید کے بانجھ پن کا اثر                (بانجھ پن خوف ہے ) اور میں بھی اسی بانجھ دھرتی کا پُرخوف بیٹا ہوں جو  پہلے شاداب تھی  کتنی زرخیز تھی  تُو نے بنجر کیا  تُونے اس کی بھری  چھا...

ادونیس اور انور سن راے کے تراجم

 ادونیس سے تعارف اور انور سن راے کے تراجم — میں ابھی ادونیس Adonis  کو دریافت کرنے کی خوشی اور حیرت میں مبتلا تھا کہ یہ جان کر سرشار ہو گیا ہوں جو عرب کے اس بڑے  شاعر  کی کچھ نظمیں ہماری اپنی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔۔۔اور اس کارنمایاں کا سہرا انورسن راے کے سر ہے  ۔انور سن راے خود ایک معروف شاعر ،مترجم اور صحافی ہیں ۔۔  ادونیس کی نظموں کے تراجم پر مشتمل یہ کتاب " نیویارک کے لیے ایک قبر اور دوسری نظمیں " یقینا بہت اہمیت کی حامل ہے ۔۔مترجم ہونا ایک بہت سنجیدہ اور بڑی ذمہ داری کا منصب ہے۔۔ترجمہ بہت سے لوگ کر سکتے ہیں لیکن وہ بس لفظوں کی حد تک ایسا کر پاتے ہیں ۔۔زبان کے اندر ایک زبان ہوشیدہ ہوتی ہے جس کی بنیادیں اس زبان کے کلچر میں پیوست ہوتی ہے۔۔مترجم جب تک اس سے مانوس نہیں وہ لفظی ترجمہ تو کر لے گا لیکن وہ فضا، کیفیت اور تاثیر نہیں پیدا کر سکتا جو اصل فن پارے میں موجود ہوتی ہے ۔۔بہر صورت میں یہ کہوں گا کہ ترجمہ ایک اہم کام ہے اس کی اہمیت لگی بندھی غزل اور نظم کی اس دو جمع دو قسم کی  شاعری سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے اردگرد کثرت سے ہو رہی ہے ۔۔ ایسے تراجم ...

جذباتی نعرے بازی اور مسئلہ فلسطین

 محمود درویش کی کوئی کشمیر پر لکھی نظم سنائیں ؟  اگر یاد ہو -یہ جملہ معترضہ تھا ۔ مراد یہ ہے کہ اپنی زمین کا رونا بھی رو لیں  ہر وقت دوسروں کی فکر پڑتی رہتی ہے نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ کچھ اور ہی کر سکتے۔ یہ بس ہمارے پاکستانیوں کا ہی جذباتی مزاج باقی کوئی دنیا میں ایسے نہیں کرتا ۔   پچاس باون مسلمان ملک ہیں جذباتی نعروں کے سوا کیا ہو رہا ہے؟ ہر خطے کے اپنے مسائل ہیں زمینی حقائق ہیں مذہبی عینک آپ کو بس سطحی سے مناظر دکھاتی ہے ان کے پیچھے کے حقایق نہیں بتاتی ۔ میرا فلسطین اور کشمیر کے متعلق وہی نظریہ ہے وہی اپروچ ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کی ہے ان سے بہتر اس ایشو کو نہ کسی مذہبی سکالر نے ایڈریس کیا ہے نہ کسی مذہب بیزار آدمی نے ۔ ان کے مطابق یہ جنگیں جتھوں اور گروہوں کی بنیاد پر نہیں ہوتیں آپ جس عہد میں زندہ ہیں اس کے تقاضے سمجھیں عالمی ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتے رہیں ۔ مظلومانہ رویہ اپنائیں تاکہ عالمی ضمیر آپ کے ساتھ کھڑا ہو ۔ ان کے ہاتھ میں بندوقیں اور پتھر نہ پکڑائیں اس سے کچھ نہیں ہو گا ۔ الٹا ان کو تشدد پسند قرار دے دیا جاے گا ۔پھر سوشل میڈیا کے احتجاج کی عالمی قوتوں ...

پنجابی نظم - ہِک رنگ موت دا

 ہک رنگ موت دا  تے دوجا رنگ جئیون دا دوجا رنگ !  موت دی صلیب اتے ٹنگیا  تیجا رنگ برہا  تے  چوتھا اے ملاپ دا  چوتھا رنگ !  برہا دے سپ ہتھوں ڈنگیا  پنجواں اے دن دا  تے  چھیواں رنگ رات دا  چھیواں رنگ ! دن توں ادھار اساں منگیا  ستواں اے میرا  اٙتے  اٹھواں اے تیرا رنگ  اٹھویں دے ! رنگ وچ ہر رنگ رنگیا —  توقیر رضا Tauqir Reza

ٹیکنالجی دے معجزے

 ہِک نظم   ٹیکنالجی دے معجزے  — دھرتی دے ملہوٹے منہ تے تُھک کے او !  چن تے مریخ دیاں مِٹیاں چُمن جا رہے نیں  ایرے کھٹن جا رہے نیں  آون آلیاں نسلاں دے کوٹھے چاڑن جا رہے نیں   چنگی گل اے  پر دھرتی دا کیہ قصور اے  جدا سریر  راکٹاں تے جنگی جہازاں دے شراٹیاں نال  ہر ویلے کمدا رہنداے  جدی چھاتی ٹینکاں دیاں چیناں پَٹ ماری اے  جدے کَن بم دھماکیاں نیں ڈورے کر چھوڑے نیں  جس دیاں اکھاں  موٹر کاراں دے دھوئیں چ ونجاپ گئیاں  جدے پہاڑ  ! سڑکاں دی کالی ڈین کھا گئی  جدے رُکھ !  فیکٹریاں دے سامری چٹ کر گئے  ( منرل واٹر دے ناں تے )  جدے پانڑی  عمرو عیاراں دی زنبیل ڈِیک گئی  ( تے اودھر  عیسی تے مہدی دی اڈیک اچ سُتے ہوئے  مشرق تے مغرب !  جنہاں ٹیکنالجی دےمعجزے ویکھ کے  سائنس دا کلمہ پڑھ لیا اے )  —— Tauqir Reza توقیر رضا ۲۲ فروری ۲۰۲۱

غزل - توقیر رضا | Ghazal : Tauqir Reza

 غزل —— نئی نہیں کوئی دن کی خبر ہمارے لیے  وہی سفر وہی گردِ سفر ہمارے لیے  شجر میں چُھپ کے کہیں کوئی زاغ روتا ہے  اور آسماں سے برستا ہے ڈر ہمارے لیے  کہ چار حرفی محبت بھی گن کے ملتی ہے شُمار ہوتے ہیں ، زیر و زبر ہمارے لیے  کہاں ہر ایک پہ تجریدِ زخم کھلتی ہے خدا نے خلق کیا یہ ہنر ہمارے لیے  گلی گلی میں وہی رفتگاں کا ماتم ہے  کوئی فُغاں نہ کوئی نوحہ گر ہمارے لیے  —— توقیر رضا #tauqirrezapoetry #توقیررضاشاعری#

جون ایلیا اور ہماری اردو تنقید

 جون کی جو زبان ہے اور جو اس کے ایکسپریشنز  ہیں اس پر ہزار نادر مضامین قربان ۔ یہ مضمون نگاری ، نئے خیال اور بڑے شعر کی تلاش اردو والوں کے عجیب پلے پڑی ہے ۔ دنیا بھر کی شاعری میں ایکسپریشن ، کیفیت ، احساس ، جذبے ، انسانی نفسیات کے گونا گوں پہلووں کی جستجو اور بالخصوص منظر نگاری اور امیجز کو فوقیت حاصل رہی ہے ۔ ہمارے ہاں ساری تنقید اور غزل کی شاعری اسی ایک کھوج میں لگی ہے کہ بڑا خیال اور نیا مضمون لایا جاے ۔ اس پیمانے پر  بڑے بڑے شعرا  کے دیوان چند اشعار بھی نہیں دے پاتے ۔ بہت لوگ غزل میں اسی بنیاد پر ضائع ہو گئے ۔ پھر بہت سے تجربات پر نکل پڑے پر بات نہیں بنی ۔ امید ہے کوئی ایسا نقاد پیدا ہو جو ان معیارات کو بدلے اور جدید عہد سے ہم آہنگ کرے اور غزل سے ہٹ کر بھی تنقید کرے جیسے میرا جی نے بہت خوب صورت تنقید کی ۔ وزیر آغا کی امتزاجی تنقید بڑا اہم کام تھا جو مشرق و مغرب کی شاعری  کو سمجھنے کے لیے ایک پُل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے  توقیر رضا جاری ۔۔۔۔

Limerence : Tauqir Reza

Limerence بعد میں ! اب ایک دوسرے پہ شک  کریں گے بعد میں ۔۔ ابھی تو اعتبار نے جنم لیا ہے  اور ابھی سے شک کریں ؟   سوال ہے !  تجھے یقین ہے کہ تُو  قبول اور سپردگی کے سب اصول یاد رکھ کے  مجھ سے آ ملا ؟  تو ٹھیک ہے  یہ چیونٹیاں دل و نظر کو چاٹتی چیونٹیاں  انہیں سُنیں گے بعد میں !  ابھی شب وصال ہے  وصال کا بھی اولین سال ہے  یہ پہلی پہلی رات ہے ملاپ کی  یہ پہلے پہلے لمس کا ہِلال ہے  چلو اب ایک ساتھ  طاقِ خواب میں رکھے ہوئے  دیے کی لو میں  صبح تک سفر کریں ! سفر تمام خوشبووں کا ، لمس کی پناہ میں نشاط  سے مچلتی تتلیوں کے سنگ  سفر کریں  سفر تمام رنگ کا ، سفر تمام نور کا  سرور کا کوئی سفر ! >> شروع کریں ؟  محال ہے !    یہ چیونٹیاں !!  بدن کی تہہ میں رینگتی چیونٹیوں کا کیا کریں ؟  سوال ہے !  قدیم اعتبار کی قدم قدم سے  پاش پاش سیڑھیوں پہ چڑھ کے  کون چاندنی کو چھو سکا  زوال ہے ! دیے کی لو کو چیونٹیاں نگل گئیں  فلک پہ چاند کٹ گیا  تمام رن...

نظم : کوئلہ اور کپاس

کوئلہ اور کپاس  ——— کالی رات میں  گھر سے باہر جاتے جاتے ٹھہر گیا ہوں  انگیٹھی کے سُرخ کوئلے اپنی جانب کھینچ رہے ہیں  دیکھ رہا ہوں  اُس کو اپنی جانب آتے  دیکھ رہا ہوں  بیٹھ گیا ہے  انگیٹھی سے دور  وہ ڈر کر بیٹھ گیا ہے ۔  برف نے اس کی دونوں آنکھیں بھینچ رکھی ہیں نازک سینہ کھینچ رکھا ہے  جانے کس دن اس مٹی پر لمس کا سورج اُترے گا  اور ہجر کی کالی رات کٹے گی   ابر چھٹیں گے  برف ہٹے گی    کب وہ کپاسی آنکھیں  میرے ساتھ کوئلہ کاٹیں گی  اور اک چنگاری بھڑکے گی ۔ — توقیر رضا

نثری نظم : جالے

جالے  —- وہ مجھ سے چیونٹیوں کے بارے پوچھتی ہے ان چیونٹیوں سے متعلق ,  جو میری آنکھوں میں گھر کر چکی ہیں   مشکوک ! توہمات سے بھری رنگ برنگی چیونٹیاں !  میں اسے کیا جواب دوں  جب میری آنکھوں میں تو , خود اُس کا ہونا بھی اک سوال ہے  کون ہے وہ ؟؟  کوئی لڑکی ہے  یا پھر کوئی چیونٹی  یا پھر کوئی سوال ہے  جو میری آنکھوں میں رینگ رہا ہے اور سر کی طرف چڑھ رہا ہے !  سُنو ! تم جو کوئی بھی ہو  ( یا نہیں ہو )  ایک التجا ہے !  میری آنکھوں تک ہی رہو میرے سر پہ نہ چڑھو !  میری کھوپڑی میں جالے ہیں ۔۔  مکڑیوں کے “یہ بڑے بڑے جالے “  جو تمہیں پلک جھپکتے ہی نگل جائیں  گے  سو اگر تمہیں زندگی عزیز ہے  تو سُنو !  اپنے گھر میں سُکھ سے رہو اور کوئی سوال نہ کرو  میرے پاس کوئی جواب نہیں ، صرف جالے ہیں  ان گنت سوالوں اور نامعلوم اذیتوں کے   “ یہ بڑے بڑے جالے “  — توقیر رضا Tauqir Reza