Limerence : Tauqir Reza



Limerence


بعد میں !


اب ایک دوسرے پہ شک 

کریں گے بعد میں ۔۔

ابھی تو اعتبار نے جنم لیا ہے 

اور ابھی سے شک کریں ؟  


سوال ہے ! 

تجھے یقین ہے کہ تُو 

قبول اور سپردگی کے سب اصول یاد رکھ کے 

مجھ سے آ ملا ؟  تو ٹھیک ہے 


یہ چیونٹیاں دل و نظر کو چاٹتی چیونٹیاں 

انہیں سُنیں گے بعد میں ! 


ابھی شب وصال ہے 

وصال کا بھی اولین سال ہے 

یہ پہلی پہلی رات ہے ملاپ کی 

یہ پہلے پہلے لمس کا ہِلال ہے 


چلو اب ایک ساتھ 

طاقِ خواب میں رکھے ہوئے 

دیے کی لو میں 

صبح تک سفر کریں !


سفر تمام خوشبووں کا ، لمس کی پناہ میں نشاط 

سے مچلتی تتلیوں کے سنگ 

سفر کریں

 سفر تمام رنگ کا ، سفر تمام نور کا 

سرور کا کوئی سفر !


>> شروع کریں ؟ 


محال ہے !   

یہ چیونٹیاں !! 


بدن کی تہہ میں رینگتی چیونٹیوں کا کیا کریں ؟ 

سوال ہے ! 


قدیم اعتبار کی قدم قدم سے 

پاش پاش سیڑھیوں پہ چڑھ کے 

کون چاندنی کو چھو سکا 


زوال ہے !

دیے کی لو کو چیونٹیاں نگل گئیں 

فلک پہ چاند کٹ گیا 

تمام رنگ بُجھ گئے

وہ ! جل رہی ہیں تتلیاں ! 


مثال ہے ! 

حذر کرو ! 

کہ بسترِ وصال پر چیونٹیوں کو جھاڑ کر 

سفر کرو ! 



توقیر رضا 

Tauqir Reza

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza