101 اشعار - توقیر رضا

- توقیر رضا 101 اشعار 
آٹھ ، دَس سال پرانی شاعری سے انتخاب 
—-
میں بہت پیار کرنے والا ہوں
تم پرندوں سے پوچھ سکتی ہو 
-
بھاگ اور اتنا دور بھاگ کے جا 
رنگ اور روشنی تیاگ کے جا 
تجھ سے کس نے کہا تھا چھُو اس کو 
کس نے بولا قریب آگ کے جا 
-
پسِ نظر کبھی پیشِ نظر ڈراتا ہے 
وہ خواب آج بھی مقدور بھر ڈراتا ہے 
تجھے خبر نہیں کیا شے ہے خوفِ تنہائی 
ڈھلے جو شام تو خود اپنا گھر ڈراتا ہے 
-
میں تو ہوں ایک وہم اک سایا 
کیا خبر تم کو کیا نظر آیا 
-
دیکھو مجھ کو یاد نہیں ہے رستوں کی تفصیل 
یہیں کہیں وہ چاند ہوا تھا مٹی میں تحلیل 
-
راستوں کی سر کشی کے سامنے 
میں اُٹھا دیوار ہونے کے لیے 
-
پیش اب کیا غم ہستی کی میں توجیہہ کروں 
مسئلہ واضح تو ہو جب کوئی توضیح کروں 
زخم دیتا ہے تو دے ، ساتھ یہ توفیق بھی دے 
اپنا ہر زخم گنوں اور تری تسبیح کروں 
-
موت چپ ہے ، چپ خدا کی مستند آواز ہے 
غور سے سن زندگی کو کتنی بدآواز ہے 
میں خدا تو ہوں نہیں جو چپ رہوں ہر بات پر
آدمی ہوں میرے ہونے کی سند آواز ہے 
-
اندھیری رات کی وحشت میں کچھ کمی آئی
وہ کھلکھلا کے ہنسی اور روشنی آئی 
ہم ایک عمر سے پتھر بنے کھڑے ہیں یہاں 
وہ اِتنا کہہ کے گئی تھی کہ میں ابھی آئی 
-
کب آگ لگی پانی میں دیکھا نہ کسی نے 
سب اپنے جزیرے کی حفاظت میں لگے تھے 
ہم آے کھرا مال لیے شہر سخن میں 
بازار کے سب لوگ ملاوٹ میں لگے تھے 
-
ماورائی تقدس کی قبروں میں سوتی ہوئی لڑکیاں
لمس کی آگ سے بے خبر ، برف ہوتی ہوئی لڑکیاں 
کوئی آہٹ نہیں ، مسکراہٹ نہیں، چہچہاہٹ نہیں 
جب سے نکلی ہیں بابل کے انگنے سے روتی ہوئی لڑکیاں 
رسموں ، قسموں سے ، پیمان و قرآن سے کس کے باندھی ہوئیں
آہ ! تیری نہ میری _ کسی کی نہ ہوتی ہوئی لڑکیاں
-
آ گئی دھوپ مری چھاوں کے پیچھے پیچھے 
تشنگی جیسے ہو صحراوں کے پیچھے پیچھے 
نقش بنتے گئے اک پاوں سے آگے آگے 
نقش مٹتے گئے اک پاوں کے پیچھے پیچھے 
-
شب تاریک ہوں نور سحر ہونے کی خواہش ہے
میں ایسا ہو نہیں سکتا ، مگر ہونے کی خواہش ہے 
محبت کے مقابل آ گئی ہے دوستی,  یارو 
ادھر میں ہو نہیں سکتا ، جدھر ہونے کی خواہش ہے 
-
یہ چاند ایک خواب ہے ، سورج طلسم ہے 
یہ ساری کاینات کی سج دھج طلسم ہے 
-
یہ شہر جو سمجھے ہوئے درویش مجھے ہے 
اک طرفہ تماشا ہے کہ درپیش مجھے ہے 
-
راستہ اپنا بنانے کو بھی کاٹا نہیں کچھ
میں وہ دریا ہوں جو ، جنگل کو ہرا رکھتا ہے
-
مرے خدا ہم جو اپنے ہاتھوں سے بچ رہے تو
ترے اصولوں ، ترے رسولوں کا غم کریں گے
-
خود کشی کی آرزو دل میں لیے 
ایک دن یونہی اچانک مر گئے 
-
جب میں اپنی طرف کو چلتا ہوں 
تم مرے راستے میں آتے ہو 
-
میرا قد ناپنے سے پہلے تُو 
اپنی آنکھیں اُتار کر رکھ دے 
-
مری کتاب کے پہلے ورق پہ لکھ دینا 
یہ خود سے ہارے ہوئے شخص کی کہانی ہے 
-
سچ کو تاویل کی الجھن سے نکالو باہر 
اس طرح لوگ تمہیں اور بھی جھٹلائیں گے
-
تمام عمر نہ اک گھر ہی بن سکا ہم سے 
ورق ورق ، کوئی تاریخ کیا بناتے ہم 
-
پاس تمہیں بھی آنے سے ڈر لگتا ہے 
تم بھی دور سے دیکھنے والے لگتے ہو
-
تقسیم یہ فطرت کی ہر دو کے ہنر پر ہے 
ساحل ہے مچھیرے کا کشتی کا سمندر ہے 
-
ملنے والے تھے دو روشنی سے بدن 
ایک سایے کی رو درمیاں آ گئی
-
چبھتی ہیں میری روح کو یہ ظاہری آنکھیں 
اندھا ہو جو اندر سے ، میری سمت نہ دیکھے
-
عیاں ہے اسکی نظر سے ملاپ کی خواہش 
مگر وہ شخص مری تشنگی سے ڈرتا ہے 
-
وہ اپنے رنگ و بُو بھی کھو نہ بیٹھے 
ہمارے پھول چوری کرتے کرتے
-
کسی بھی سُر سے کسی ساز سے نہیں کِھلتے 
کہ پُھول دل میں تگ و تاز سے نہیں کِھلتے 
-
یہ کس نے دل سے دعا کا فریب باندھ دیا 
بلند ہوتی زمیں سے نشیب باندھ دیا 
-
زمیں کا افسردہ پن فلک سے چھلک رہا ہے 
 مرے لہو میں خدا کا چہرا جھلک رہا ہے 
تری جوانی پہ کس کے ہاتھوں کے دستخط ہیں 
یہ کس کی حسرت میں تیرا سینہ ڈھلک رہا ہے 
-
تم نے جس حوصلے سے دیکھ لیا 
حادثہ اتنا سرسری کب تھا 
-
اسی لیے تو کوئی رابطے میں رہتا نہیں 
مجھ ایسا شخص کسی ضابطے میں رہتا نہیں 
-
دور تک ایسا کوئی شخص نہیں 
جس کو نزدیک جا کے دیکھ سکوں 
-
ان سے بھی پوچھ جن کو تیرے بغیر 
زندہ رہنے کا تجربہ نہیں تھا 
-
اجڑی آنکھوں کی داستان سے بھی 
وہ نہ سمجھا کسی زبان سے بھی
-
خود کو بارش میں کیوں بھگوتا میں 
چھوڑ آیا ہوں اس کو روتا میں 
اس کے کہنے پہ بولتا لیکن 
اس کے کہنے سے چپ نہ ہوتا میں
-
ڈھلتا سایا ہوں گرتا جسم نہیں 
کیا ضرورت مجھے سہارے کی
تشنگی آٹھویں سمندر کی 
دسترس دوسرے کنارے کی 
-
تجھ کو احساس دلانا تھا سو پتھر پھینکا 
یہ کسی جنگ کا پیغام نہیں ہے مرے دوست 
تشنگی ڈھونڈ رہی ہے مجھے ساحل ساحل 
میرے ہاتھوں میں کوئی جام نہیں ہے مرے دوست 
-
خواہشوں کے غار کا منہ بند ہے 
تم ! ہٹا دینا , نہ وہ , پتھر کہیں 
آ گیا وہ جسم کے ملبے تلے 
میں گرا دہلیز سے باہر کہیں 
-
تم اپنا ہاتھ مرے ہاتھ سے چھڑا لینا 
جب آندھیوں کا مری سمت زور ہونے لگے 
-
صرف دشمن نہیں اندھیرے کی 
روشنی اور بھی بہت کچھ ہے 
-
آئنہ راستے میں دھر آیا 
پھر مجھے راستہ نظر آیا 
جو مجھے پھول میں دکھائی دیا 
اس کو تلوار میں نظر آیا 
-
تلوار پہ لکھے ہوئے گیتوں کو پڑھ سکے 
ایسا کوئی تو ہو جو محبت سے لڑ سکے 
اب کے بہار قید میں رکھے گی سارے رنگ
ٹہنی سے ایک پھول بھی شاید نہ جھڑ سکے
-
نئی نہیں کوئی دن کی خبر ہمارے لیے
وہی سفر وہی گردِ سفر ہمارے لیے 
شجر میں چھپ کے کہیں کوئی زاغ روتا ہے
اور آسماں سے برستا ہے ڈر ہمارے لیے 
-
پیڑ پودوں کی آبیاری میں
کتنے دُکھ ہیں مری کیاری میں 
-
جو اپنے ہی اندر کسی الجھن میں گھرا ہو 
کیا اس کو لگے شہر میں پھر جو بھی ہوا ہو 
کچھ راتوں سے میں خواب برے دیکھ رہا ہوں 
یہ گھر کسی اندھے کو نظر آ نہ گیا ہو ؟؟؟
-
ڈھلتا خورشید ہولناک ہے دوست 
شام سرنامہِ فراق ہے دوست 
دن تماشہ ہے اک الگ میری جاں
رات اک دوسرا مذاق ہے دوست 
خوف کے ان گنت ہیں روپ مگر 
بے گھری سب سے خوف ناک ہے دوست 
-
میں آسماں سے ڈرا ہوا تھا 
دھنک کے جھولے کو دار سمجھا 
اسے بھلا چاند کیسے دکھتا 
جو چاندنی کو غبار سمجھا 
-
تجھ کو تو فقط ایک خدا کرنا ہے راضی 
اپنے لیے مشکل ہے بہر گام مرے دوست 
یہ وقت کا پنچھی ہے کہ اڑتے نہیں تھکتا 
ہر روز گزر جاتی ہے اک شام مرے دوست
-
تم نے اس دوران دلوں کو جیتنا ہے 
ترکش سے جب تیر کماں تک جائیں گے 
چپ کے دکھ اور کرب سے جو بچ نکلیں گے 
لوگ وہی اندوہِ بیاں تک جائیں گے 
-
کردار کہانی کے سبھی مجھ سے جڑے ہیں 
گو ، نام میرا زینت اوراق نہیں ہے 
بیدار دلوں کے لئے ہر رات شب قدر 
غافل کے لیے کوئی بھی شب طاق نہیں ہے
پلٹ کے دیکھو وہ جانے والا 
تمہارے پیچھے نہ آ رہا ہو 
کسے خبر ہے کہ مرنے والا
تمہارا کردار جی رہا ہو
-
اپنی تو ساری توجہ ہی نبھانے پر تھی 
جب کہ اپنوں کی نظر کام چلانے پر تھی 
ہم بھی تسخیر تو کر لیتے یہ دنیا لیکن 
یہ نظر اپنی کسی اور زمانے پر تھی
-
دن کا ملبہ ڈھو ڈھو ڈھتا جاتا ہے
جسم ہزار کچوکے سہتا جاتا ہے 
ملتے ہی تم اس کا بوسہ لے لینا 
رہتے رہتے کام یہ رہتا جاتا ہے
-
بہت اندھیرا تھا اس طرف بھی 
کہ میرا سایا تھا اس طرف بھی
جہاں سے تم اس طرف کو پلٹے
وہیں سے رستہ تھا اس طرف بھی  
-
وہ رنگ روپ مسافت کی دھول چاٹ گئی 
مرا وجود محبت کی بھول چاٹ گئی
میں ضبط کر نہیں سکتا سرِ فراتِ وصال
کہ تشنگی مرے سارے اصول چاٹ گئی
-
زندہ رہنے کے سلسلے تھے بہت 
ہم ہی اندھے تھے راستے تھے بہت 
آگئی پٹڑیوں پہ نیند ہمیں 
زندگی ہم تھکے ہوئے تھے بہت 
-
کسی پرندے کی بولی میں چہچہاتے ہیں 
بہت اداس ہے دریا اسے ہنساتے ہیں 
-
تمہارے گال ہیں کیوں اتنے زرد جیسے کہ 
تمہیں ملا ہی نہیں کوئی مرد جیسے کہ 
-
سایہ زلف میں جھلستے ہیں 
چھاؤں بھی ہم کو دھوپ ایسی ہے 
ایک تصویر کے چرانے کو 
بار ہا اپنی جیب کاٹی ہے
-
جو بھی ہوں اب فیصلے تقدیر کے 
ہم تو ہیں اک خواب ، اک تعبیر کے 
-
مٹی ماس میں کیسے بدلی 
کون سا چاک گھمایا ہے 
-
خودکشی کی آخری کوشش سے میں 
بچ گیا ہوں پھر تری کاوش سے میں 
آسماں اب بھی مجھے بھولا نہیں 
چن رہا ہوں زندگی بارش سے میں 
-
باغ سے دور اکیلا پھول 
کب تک مہکے تنہا پھول
-
ہزار شعروں میں اک شعر میرا رکھ دیجے 
تو اہل دل میرا لہجہ شناخت کر لیں گے 
انجام کدھر سے میرا آغاز کدھر سے 
مشہور ہوئی مٹی کی آواز کدھر سے 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza