اشاعتیں

جون, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نثری نظم ۱ - جُوڑے میں کِھلا پھول

 جُوڑے میں کِھلا پُھول  — گنتی کرو !  میرے ہاتھ میں  نیند کی کتنی گولیاں ہیں ؟  مٹھی بھر نیند کی گولیوں سے  سال بھر کے خواب خریدے جا سکتے ہیں  یا پھر ابدی نیند!  میں کوئی دن  نیند کے اس پار جہاں  دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں  جہنم کی دیوار پھلانگ کر تم سے ملنے آوں گا  اور  سُرخ پھولوں کی چنگیر سے اک پھول چرا کر  تمہارے جُوڑے میں سجاوں گا    آگ میں لپٹے ہوئے میرے ہاتھ تمہارے جنتی جسم کو چھونے سے ڈرتے ہیں  اور میری ہر ممکنہ خواہش کو روشن ہونے سے پہلے ہی راکھ کر دیتے ہیں  موت سے پہلے مَیں  تمہارے جُوڑے میں  اپنی خواہش کا پُھول کِھلانا چاہتا ہوں  -  توقیر رضا Tauqir Reza https://www.facebook.com/Tauqir-Reza-1028598150536964/

انسان عظیم ہے

انسان عظیم ہے  (کچھ خیالات)  — ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو نوع انسانی کے تاریخی سفر کو یکسر الٹ پلٹ دینے والے عہد میں زندہ ہے  ۔ اتنا کچھ کسی نسل نے نہیں دیکھا ہوگا اکیسویں صدی کے ظہور کے ساتھ انسان نے بالکل الگ دنیا کا مشاہدہ کیا جہاں دن بدن زندگی کے ہر شعبے میں حیران کن تبدیلیاں اور ترقی رونما ہوئی ۔ میں ہر چیز کو انسان کے ماضی اور اس کے تاریخی سفر کے پس منظر میں دیکھتا ہوں ۔ میں بد قسمت نہیں خوش قسمت ہوں کہ انسانی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ انسان جس کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔  آج کتنی بیماریوں کا علاج دریافت کر چکا ہے آنے والا عہد طبل جنگ بجاتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس سب کے بعد یا قبل انسان نے کوئی ایسا درمیانی رستہ تلاش کر لیا جہاں اس کی فطرت کو اس کے اپنے ہم جنس مفاد پرست  طبقہ استعمال نہ کر سکے اور انسان اک ہارمنی کے ساتھ رہنے لگے تو یہ زمین پر جنت بسانے کے مترادف ہو گا جہاں ہر سہولت میسر ہے  اور جہاں انسان ایسے خواب دیکھ رہا ہے کہ ساری کاینات اس کی دسترس میں ہے ۔ اگر آپ  انسان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے موجودہ عہد تک آئیں تو آپ خوش ...

کمرشل ادب اور عوام

 احمد فراز و پروین شاکر  آج بھی عوام میں ثروت حسین اور شکیب جلالی جیسے دیوقامت شاعروں سے زیادہ مشہور ہیں ۔بلکہ یہ دونوں عوامی پذیرائی میں کئی انتہائی اہم شعرا سے زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر نام لکھے جائیں تو کم پڑ جائیں گے ۔ ان کو یہ شہرت کیسے ملی ؟ ظاہر ہے لائم لائٹ میں آنے سے مین سٹریم میں رہنے سے ۔ ثروت مشاعرہ پڑھتا تو بتائیں عوامی شہرت اس کے لیے کیا مشکل تھی؟ جون ایلیا کی مثال سامنے ہے جو  کچھ مشاعرے پڑھ کے آج فراز کی شہرت کو بھی یچھے چھوڑ گئے ۔ جب کہ مشاعرے میں انہوں نے بہت عام سی چیزیں پڑھیں ۔ اور عوام کوئی داد نہیں دیتی تھی ہنستی تھی اور ہُوٹ کرتی تھی ۔ یہی ہوتا ہے مگر ہمارا شاعر شہرت کی خواہش میں اسے داد سمجھتا ہے ۔ عوام کو کوئی غرض نہیں جیسے یہی عوام جو جون صاحب کی بہت بڑی فین ہے انہوں نے جون ایلیا کی شہر آشوب کبھی نہیں پڑھی ہوگی !  کیا اب بھی وقت نہیں  آیا کہ ادب کے خدمت گار یہ سمجھیں کہ عوام کا شعور بلند کرنا ہے نہ کہ ہمیں اپنی ٹکے کی شہرت کے لیے عوام کی سطح پر آنا ہے ۔ کہیں وہ ساغر صدیقی ، کہیں تنویر سپرا کہیں اقبال ساجد کہیں سارا شگفتہ کہیں منچندا بانی ۔ ...