اشاعتیں

دسمبر 8, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نظم : مُلکِ خداداد - توقیر رضا شاعری

 نظم ملکِ خداداد ---- خدا گلی سے گزر رہا ہے  خدا چھتوں پر سے اڑ رہا ہے  خدا کے سب بال و پر کُھلے ہیں  خدا کی مسجد ، خدا کا مندر ، خدا کا گرجا  (خدا کی بستی ) خدا کے سب بام ودر کُھلے ہیں  ہم اپنے پنجرے میں قید پنچھی  ہم اپنی بستی میں اجنبی ہیں  ہمارے رستوں پہ خونی باڑیں  ( لگانے والے ) بھی سب خدا کے ہی آدمی ہیں  وہ چاہے جس بھی گلی سے گزرے  خدا کے سب راستے کھلے ہیں۔۔۔ توقیر رضا   Tauqir Reza Official