اشاعتیں

موتیے کے نابینا پھول پر خالد جاوید صاحب ( بھارت ) کا تبصرہ

 گذشتہ دنوں پیرس کی ایک یونیورسٹی Inalco میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جو ایک الگ داستان ہے۔ مگر وہاں پاکستان کے بلند پایہ شاعر انعام ندیم سے میری ملاقات نے اس سفر کو یادگار بنا دیا۔ دوسرا اہم واقعہ پیرس میں مقیم نوجوان شاعر توقیر رضا سے ملاقات ہے۔ توقیر رضا کی شاعری اور بالخصوص نظمیں تو لاجواب اور غیرمعمولی ہیں۔ اتنی عمدہ نظمیں، اتنا عمدہ کرافٹ اور لفظ و معنی کی دوئی پر ایسی گرفت قابلِ رشک ہے۔ ’موتیے کے نابینا پھول‘ ان کی لاجواب نظموں کا خوب صورت مجموعہ ہے۔ ان نظموں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور یہ صرف میرا ہی خیال نہیں بلکہ انعام ندیم بھی میری بات کی تائید کریں گے۔  توقیر رضا نے اپنے عمدہ ریستوران میں میری بھرپور ضیافت کی اور بارش میں بھیگتے ہوئے میرے لیے سگرٹیں مہیّا کیں۔ دوسرے دن شام کو وہ مجھے ایک ترکی ریستوران کھانا کھلانے لے گئے، جہاں کا کھانا بہت لذیذ تھا۔ توقیر رضا سے میری ملاقات میرے عزیز شاگرد ریحان کے توسط سے ہوئی جو ایک سال پہلے پیرس میں اردو کے معلم رہے تھے اور اب دہلی میں مقیم ہیں۔ توقیر رضا نہ صرف عمدہ شاعر ہیں بلکہ ایک اچھے فوٹوگرا...

تجھے خبر نہیں کیا شے ہے خوفِ تنہائی

 تجھے خبر نہیں کیا شے ہے خوفِ تنہائی ڈھلے جو شام تو خود اپنا گھر ڈراتاہے۔۔!! توقیر رضا

تبصرہ : موتیے کے نابینا پھول | منیر احمد فردوس

 موتیے کے نابینا پھول پر “ منیر احمد فردوس جی “ کا تبصرہ جو کتاب کے پہلے حصے “ آگ سے دُھلے آنگن “ کو کوور کرتا ہے ♥️🙏🏼 بہت شکریہ   ••• آگ کبھی جھوٹ نہیں بولتی ••• وہ ماڈرن نظم ہی کیا جو قاری کا ہاتھ تھام کر اسے نئے فکری جہانوں پر دستک دینے کا ہنر نہ سکھائے اور نظم بھی ایسی جو آگ جیسے استعارے میں پک کر تیار ہوئی ہو۔ جی ہاں وہی آگ جو اس دھرتی پر بگ بینگ کی صورت میں نمودار ہوئی اور زندگی کے جنم میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ تب سے آگ جل رہی ہے، زندگی نمو پا رہی ہے اور ہم شگوفوں کی طرح پھل پھول رہے ہیں۔  موتیے کے نابینا پھول کی نظموں میں بھی آگ استعارے کی صورت میں جل رہی ہے، جس میں فکر و فلسفہ کی معنویت پک رہی ہیں، جس کی تپش قاری کو اپنے وجود کی تہوں تک اترتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے جو اسے فہم و فراست کے نئے مدار کھوجنے پر اصرار کرتی ہے۔ نظموں میں موجود استعاراتی آگ سچ مچ میں ایسی آگ ثابت ہوتی ہے جو ہمیں وجدانی طور پر کائنات کی وسعتوں میں جلتی نظر آتی ہے یا ٹمٹماتی دکھائی دیتی ہے جیسے کہ ہماری ملکی وے گلیکسی میں روشن اربوں کھربوں ستاروں، سیاروں اور سیارچوں میں قرنوں سے آگ جل...

فیس بک ڈائری 04 اکتوبر 2014

 فیس بک ڈائری  04 اکتوبر 2014  شیعہ ہو یا سنی دیوبندی ہو یا وہابی انہیں انسان کی موت کا کوئی دکھ نہیں ہے انہیں صرف اپنے مسلک سے پیار ہے دوسرے مسلک کا بندہ مر جائے یہ انسانی بنیاد پر تعزیت بھی نہیں کر سکتے بلکہ خوشی مناتے ہیں یعنی موت ان کے لیے کوئی سانحہ نہیں جشن کا موقع ہے ۔ کئی روشن خیال اور شدت پسند ملحد بھی ایسے ہیں اور ہر سماج میں ہیں یہ سارے گروہ انسانی نسل کے لیے خطرہ ہیں لیکن انہیں علم سے بدلا جا سکتا ہے  مرنے کی خواہش تو ان کے لیے نہیں کی جا سکتی ۔ یہ کتاب ، سنت اور دین کے ساتھ بھی مذاق کرتے ہیں  دکھ اس بات کا ہے کہ مسلسل ادبی حلقوں سے بھی ایسے لوگ نمودار ہو رہے ہیں جو ذاتی عقائد کی بنیاد پر انسانوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ یہ بنیادی اسباب ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کبھی مکالمہ کا جنم نہیں ہو سکا  اور مستقبل بعید تک اس کے کوئی چانسز نہیں کوئی اک اٹھتا ہے اور اپنے ہنر کو موت کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے طاقت کے پاس گروی رکھ دیتا ہے اور ہماری محنت ضائع کر دیتا ہے یہ سچ ہے روشن فکر ادیبوں کی محنتیں ضائع ہوتے ہوئے سخت دکھ ہوتا ہے جن کا گناہ اس سماج کو خوب صورت دیکھ...

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

  35 اردو نظمیں  — 01- زندان   کی   عُریاں   وحشت   جاگ   رہے   ہیں   بے   ہنگم   سے   خواب   کی   اینٹیں   ایک   عمارت   عُریانی   کی   جس   کی   دیواروں   کے   اوپر دو   جسموں   کے   ننگے   سایے   بھاگ   رہے   ہیں   قید   کہاں   تک   پھیل   چکی   ہے   نظموں   کے   زندان   میں   لوہے   جیسی   سطریں   لفظ   کا   چھلنی   چھلنی   سینہ   رنگ   اور   خون   کی   اٹکل   بازی   آنکھوں   میں   تعمیر   کا   خنجر   ننگ   دھڑنگ   جلّاد   کی   مونچھوں   ،   کالے   دانتوں   جیسی   وحشت  !  زندہ   رہنے   کی   خواہش   بھی   چاٹ   چکی   ہے   بھاگ   رہے   ہیں   دو   جسموں   کے   ننگے ...