35 اردو نظمیں — 01- زندان کی عُریاں وحشت جاگ رہے ہیں بے ہنگم سے خواب کی اینٹیں ایک عمارت عُریانی کی جس کی دیواروں کے اوپر دو جسموں کے ننگے سایے بھاگ رہے ہیں قید کہاں تک پھیل چکی ہے نظموں کے زندان میں لوہے جیسی سطریں لفظ کا چھلنی چھلنی سینہ رنگ اور خون کی اٹکل بازی آنکھوں میں تعمیر کا خنجر ننگ دھڑنگ جلّاد کی مونچھوں ، کالے دانتوں جیسی وحشت ! زندہ رہنے کی خواہش بھی چاٹ چکی ہے بھاگ رہے ہیں دو جسموں کے ننگے ...
- توقیر رضا 101 اشعار آٹھ ، دَس سال پرانی شاعری سے انتخاب —- میں بہت پیار کرنے والا ہوں تم پرندوں سے پوچھ سکتی ہو - بھاگ اور اتنا دور بھاگ کے جا رنگ اور روشنی تیاگ کے جا تجھ سے کس نے کہا تھا چھُو اس کو کس نے بولا قریب آگ کے جا - پسِ نظر کبھی پیشِ نظر ڈراتا ہے وہ خواب آج بھی مقدور بھر ڈراتا ہے تجھے خبر نہیں کیا شے ہے خوفِ تنہائی ڈھلے جو شام تو خود اپنا گھر ڈراتا ہے - میں تو ہوں ایک وہم اک سایا کیا خبر تم کو کیا نظر آیا - دیکھو مجھ کو یاد نہیں ہے رستوں کی تفصیل یہیں کہیں وہ چاند ہوا تھا مٹی میں تحلیل - راستوں کی سر کشی کے سامنے میں اُٹھا دیوار ہونے کے لیے - پیش اب کیا غم ہستی کی میں توجیہہ کروں مسئلہ واضح تو ہو جب کوئی توضیح کروں زخم دیتا ہے تو دے ، ساتھ یہ توفیق بھی دے اپنا ہر زخم گنوں اور تری تسبیح کروں - موت چپ ہے ، چپ خدا کی مستند آواز ہے غور سے سن زندگی کو کتنی بدآواز ہے میں خدا تو ہوں نہیں جو چپ رہوں ہر بات پر آدمی ہوں میرے ہونے کی سند آواز ہے...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں