فیس بک ڈائری - 04 مارچ 2024
فیس بک ڈائری - 04 مارچ 2024 —— روایتی سٹرکچر سے تخلیقی جواز کے ساتھ نکلنا انتہائی مشکل عمل ہے لیکن یہی عمل نئی راہیں ہموار کرتا ہے ۔تخلیقی جواز اور اثر کے بغیر اس کی مثال خشک ہڈیوں اور کاغذ کے پھولوں کی سی ہے ۔ کوئی بھی صنف جب تک خود آپ کے اندر سے مکمل تخلیقی جواز کے ساتھ نہیں آتی آپ اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن ایسے دماغ بہت کم ہیں جو روایت کی پگڈنڈیوں سے گزر کر آگے بڑھے ہوں لیکن اک شان کے ساتھ ! اور ناقدین , قاری اس سے بھی کم ہیں جو نئے کام کو سمجھنے کے اہل ہوں۔ نئے کام کی سمجھ بوجھ اور نمو کے لیے مضبوط روشن دماغ ناقدین کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ اگر قاری صرف اور صرف روایت کی پگڈنڈیوں پر کِھلے پھول چننا چاہتا ہے تو چن سکتا ہے لیکن اس میں نئے شعور ، نئی جمالیات اور نئی نفسیات کی منتقلی نہیں ہوگی جو سماج میں تبدیلی کے ساتھ ظہور پذیر ہوتی ہے اور بدلتی ہے ۔اگر ایسا متن جو سیکریڈ اور مقدس بھی ہے اور اس کے حرف تک بدل نہیں سکتے اور زیر و زبر بھی ویسی کی ویسی رہنا ضروری ہے تب ! اس صورت میں بھی متن کو نئے سرے سے نئے طریقے سے پڑھنا ڈی کوڈ کرنا ضروری ہوگا وگرنہ...