اشاعتیں

اگست, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یار توقیر سُن ! ( نظم )

نظم  سایا ! مرا خدا -1  — یار توقیر سن ! اس مسافت میں بہتر یہی ہے کہ ہم  اپنے سایے کو اپنا خدا مان لیں   خوف کی راہ پر ایسا کوئی تو ہو جس پہ ایمان ہونے سے  ڈر نہ لگے ! ایسا کوئی جو ہر لحظہ ہمراہ ہو  ( جو بہت پاس ہو ) ایسا کوئی جو خونخوار تاریکیوں اور انکے فریبوں سے آگاہ ہو  کب تلک یوں اکیلے چلے جائیں گے  ایسی تنہائی میں کوئی اپنا تو ہو  کوئی اپنا تو ہو جس سے ڈر نہ لگے  (جو سہارا بنے )  خلوتوں کے دروں خلق کے درمیاں جو ہمارابنے ! —— توقیر رضا #توقیررضاشاعری 

کلیشے اور نت نئے تجربات

 کلیشے کو ہئیت کی تبدیلی سے مارا جاتا ہے  نہ کہ پرانے تخلیقی ڈھانچوں پر نت نئے تجربوں کی تکرار سے !  کلیشے لفظ کو بھی ہم نے دیگر کئی ترکیبات اور الفاظ کی طرح اس قدر بے دریغ برتا ہے کہ لفظ کا  اندرونی  اور تخلیقی معنی ہم سے گم ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم پرانے سانچوں میں نئی مٹی ڈال کے یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح نیا چہرہ نئی شکل نیا مجسمہ برآمد ہوگا ۔ جو کہ ناممکن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نئے عہد کے ساتھ بالکل بھی ہم آہنگ نہیں ہیں  توقیر رضا Tauqir Reza

ایں نارنگی اندر | رفعت عباس

 ایں نارنگی اندر  توقیر رضا |Tauqir Reza  آج صبح جب اٹھا تو اک بیت جو دماغ کے نہاں خانوں میں گونج رہا تھا  شام تھیون تو پہلے پہلے ایہہ جئی وستی آسی  وائیں ٹھڈیاں ٹھڈیاں مل سن ، پانڑی مِٹھڑا مِٹھڑا  بے اختیار “ شام “ لفظ زیرلب دہراتے ہوئے آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے یہ دکھ کس سے کہیں کہ ہمارے پانیوں کو گدلا کر دیا گیا ، ان میں زہر گھول دیا گیا اور کبھی شام کی وستی سے پہلے ہمیں کربلا سے گزرنا پڑا  ہمارے دن فرات کے کنارے پیاس سے تڑپتے گزر گئے ، ہواوں کی گرم لُو سے ہمارے جسم جھلس گئے یہ ربط بھی اک عجب ڈھنگ سے پیدا ہوا کہ غزل کا یہ شعر جو میں ہمیشہ اک الگ ترنگ میں گاتا تھا آج اس نے اک اور کیفیت پیدا کر دی ۔ اسی کیفیت میں یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں    مندرجہ بالا شعر رفعت عباس صاحب کی کتاب “ ایں نارنگی اندر “ سے ہے جو ان کی غزلیات کی کتاب ہے میرے خیال سے ایں نارنگی اندر جیسی شاعری کی کوئی نظیر اردو ، پنجابی شاعری میں نہیں ملتی ۔ یہ وہ کتاب ہے جو اس خطے کے باسیوں کو احساس کمتری سے نکالتی ہے ۔ اور اک الگ طرح کی مزاحمت سکھاتی ہے یہاں مور حملہ آور کے گھوڑوں کو ب...