یار توقیر سُن ! ( نظم )

نظم 

سایا ! مرا خدا -1 


یار توقیر سن !


اس مسافت میں بہتر یہی ہے کہ ہم 

اپنے سایے کو اپنا خدا مان لیں

 

خوف کی راہ پر ایسا کوئی تو ہو جس پہ ایمان ہونے سے 

ڈر نہ لگے ! ایسا کوئی جو ہر لحظہ ہمراہ ہو 

( جو بہت پاس ہو )

ایسا کوئی جو خونخوار تاریکیوں اور انکے فریبوں سے آگاہ ہو 


کب تلک یوں اکیلے چلے جائیں گے 

ایسی تنہائی میں کوئی اپنا تو ہو 

کوئی اپنا تو ہو جس سے ڈر نہ لگے 

(جو سہارا بنے ) 

خلوتوں کے دروں

خلق کے درمیاں

جو ہمارابنے !

——

توقیر رضا


#توقیررضاشاعری 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza