اشاعتیں

مئی 8, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جون ایلیا اور ہماری اردو تنقید

 جون کی جو زبان ہے اور جو اس کے ایکسپریشنز  ہیں اس پر ہزار نادر مضامین قربان ۔ یہ مضمون نگاری ، نئے خیال اور بڑے شعر کی تلاش اردو والوں کے عجیب پلے پڑی ہے ۔ دنیا بھر کی شاعری میں ایکسپریشن ، کیفیت ، احساس ، جذبے ، انسانی نفسیات کے گونا گوں پہلووں کی جستجو اور بالخصوص منظر نگاری اور امیجز کو فوقیت حاصل رہی ہے ۔ ہمارے ہاں ساری تنقید اور غزل کی شاعری اسی ایک کھوج میں لگی ہے کہ بڑا خیال اور نیا مضمون لایا جاے ۔ اس پیمانے پر  بڑے بڑے شعرا  کے دیوان چند اشعار بھی نہیں دے پاتے ۔ بہت لوگ غزل میں اسی بنیاد پر ضائع ہو گئے ۔ پھر بہت سے تجربات پر نکل پڑے پر بات نہیں بنی ۔ امید ہے کوئی ایسا نقاد پیدا ہو جو ان معیارات کو بدلے اور جدید عہد سے ہم آہنگ کرے اور غزل سے ہٹ کر بھی تنقید کرے جیسے میرا جی نے بہت خوب صورت تنقید کی ۔ وزیر آغا کی امتزاجی تنقید بڑا اہم کام تھا جو مشرق و مغرب کی شاعری  کو سمجھنے کے لیے ایک پُل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے  توقیر رضا جاری ۔۔۔۔

Limerence : Tauqir Reza

Limerence بعد میں ! اب ایک دوسرے پہ شک  کریں گے بعد میں ۔۔ ابھی تو اعتبار نے جنم لیا ہے  اور ابھی سے شک کریں ؟   سوال ہے !  تجھے یقین ہے کہ تُو  قبول اور سپردگی کے سب اصول یاد رکھ کے  مجھ سے آ ملا ؟  تو ٹھیک ہے  یہ چیونٹیاں دل و نظر کو چاٹتی چیونٹیاں  انہیں سُنیں گے بعد میں !  ابھی شب وصال ہے  وصال کا بھی اولین سال ہے  یہ پہلی پہلی رات ہے ملاپ کی  یہ پہلے پہلے لمس کا ہِلال ہے  چلو اب ایک ساتھ  طاقِ خواب میں رکھے ہوئے  دیے کی لو میں  صبح تک سفر کریں ! سفر تمام خوشبووں کا ، لمس کی پناہ میں نشاط  سے مچلتی تتلیوں کے سنگ  سفر کریں  سفر تمام رنگ کا ، سفر تمام نور کا  سرور کا کوئی سفر ! >> شروع کریں ؟  محال ہے !    یہ چیونٹیاں !!  بدن کی تہہ میں رینگتی چیونٹیوں کا کیا کریں ؟  سوال ہے !  قدیم اعتبار کی قدم قدم سے  پاش پاش سیڑھیوں پہ چڑھ کے  کون چاندنی کو چھو سکا  زوال ہے ! دیے کی لو کو چیونٹیاں نگل گئیں  فلک پہ چاند کٹ گیا  تمام رن...

نظم : کوئلہ اور کپاس

کوئلہ اور کپاس  ——— کالی رات میں  گھر سے باہر جاتے جاتے ٹھہر گیا ہوں  انگیٹھی کے سُرخ کوئلے اپنی جانب کھینچ رہے ہیں  دیکھ رہا ہوں  اُس کو اپنی جانب آتے  دیکھ رہا ہوں  بیٹھ گیا ہے  انگیٹھی سے دور  وہ ڈر کر بیٹھ گیا ہے ۔  برف نے اس کی دونوں آنکھیں بھینچ رکھی ہیں نازک سینہ کھینچ رکھا ہے  جانے کس دن اس مٹی پر لمس کا سورج اُترے گا  اور ہجر کی کالی رات کٹے گی   ابر چھٹیں گے  برف ہٹے گی    کب وہ کپاسی آنکھیں  میرے ساتھ کوئلہ کاٹیں گی  اور اک چنگاری بھڑکے گی ۔ — توقیر رضا

نثری نظم : جالے

جالے  —- وہ مجھ سے چیونٹیوں کے بارے پوچھتی ہے ان چیونٹیوں سے متعلق ,  جو میری آنکھوں میں گھر کر چکی ہیں   مشکوک ! توہمات سے بھری رنگ برنگی چیونٹیاں !  میں اسے کیا جواب دوں  جب میری آنکھوں میں تو , خود اُس کا ہونا بھی اک سوال ہے  کون ہے وہ ؟؟  کوئی لڑکی ہے  یا پھر کوئی چیونٹی  یا پھر کوئی سوال ہے  جو میری آنکھوں میں رینگ رہا ہے اور سر کی طرف چڑھ رہا ہے !  سُنو ! تم جو کوئی بھی ہو  ( یا نہیں ہو )  ایک التجا ہے !  میری آنکھوں تک ہی رہو میرے سر پہ نہ چڑھو !  میری کھوپڑی میں جالے ہیں ۔۔  مکڑیوں کے “یہ بڑے بڑے جالے “  جو تمہیں پلک جھپکتے ہی نگل جائیں  گے  سو اگر تمہیں زندگی عزیز ہے  تو سُنو !  اپنے گھر میں سُکھ سے رہو اور کوئی سوال نہ کرو  میرے پاس کوئی جواب نہیں ، صرف جالے ہیں  ان گنت سوالوں اور نامعلوم اذیتوں کے   “ یہ بڑے بڑے جالے “  — توقیر رضا Tauqir Reza