نثری نظم : جالے
جالے
—-
وہ مجھ سے چیونٹیوں کے بارے پوچھتی ہے
ان چیونٹیوں سے متعلق ,
جو میری آنکھوں میں گھر کر چکی ہیں
مشکوک ! توہمات سے بھری رنگ برنگی چیونٹیاں !
میں اسے کیا جواب دوں
جب میری آنکھوں میں تو , خود اُس کا ہونا بھی اک سوال ہے
کون ہے وہ ؟؟
کوئی لڑکی ہے
یا پھر کوئی چیونٹی
یا پھر کوئی سوال ہے
جو میری آنکھوں میں رینگ رہا ہے اور سر کی طرف چڑھ رہا ہے !
سُنو ! تم جو کوئی بھی ہو ( یا نہیں ہو )
ایک التجا ہے !
میری آنکھوں تک ہی رہو
میرے سر پہ نہ چڑھو !
میری کھوپڑی میں جالے ہیں ۔۔
مکڑیوں کے “یہ بڑے بڑے جالے “
جو تمہیں پلک جھپکتے ہی نگل جائیں گے
سو اگر تمہیں زندگی عزیز ہے
تو سُنو !
اپنے گھر میں سُکھ سے رہو اور کوئی سوال نہ کرو
میرے پاس کوئی جواب نہیں ، صرف جالے ہیں
ان گنت سوالوں اور نامعلوم اذیتوں کے
“ یہ بڑے بڑے جالے “
—
توقیر رضا
Tauqir Reza
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں