اشاعتیں

اگست 5, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مُلائیت اور ادبا کی دماغی کنفیوژن

 رقص ، سوشل میڈیا کی طاقت ، ملائیت اور ادبا کی دماغی کنفیوژن   — بچوں اور طلبا کے رقص کو مذہب سے جوڑنا آئیں بائیں شائیں اور ادھر  اُدھر اگر مگر  کی باتیں کرنا کنفیوذڈ دماغی ہے اس کا مطلب ہے آپ کے اندر بھی کوئی چھوٹا موٹا مولوی آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہے ۔  تعلیمی ادارے اپنا کام نہیں کر رہے تو نئی جنریشن جو کسی بھی بہانے سے گھٹن زدہ ماحول میں چاہے سوشل ایپس پر یا کہیں بھی ایسی ایکٹوٹیز کر رہی ہے وہ تعلیمی اداروں کی تعلیم سے زیادہ موثر ہے اس گھٹن کو کم کرنے میں جو ہمارے معاشرے میں مولوی نے پھیلائی ہے ۔ ہم نے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ڈاکٹر انجینئیر افسر سب دیکھ لیے ہمیں پہلے آزادی چاہیے سادہ سے الفاظ لکھ رہا ہوں کوئی تفصیلی مضمون وغیرہ نہیں ہمیں آزادی اور فن کے ہر عکس اور پرتو کو مثبت انداز میں دیکھنا ہے ۔۔ آپ سوشل ایپس کے شعرا اور ادیب مولوی بن کر جس مغربی کلچر کے اثر کی بات کررہے ہیں اور الزام دے رہے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور بچوں کو خراب کر رہا ہے ۔۔ اسی سوشل میڈیا نے ہمارے ہاں کے قدیم تعصبات ، نظریات اور گھٹن کو پاش پاش کر دیا ہے ۔ یہی وہ میڈیم ہیں جہاں...

فیس بک ڈائری : 30 جولائی 2014

 فیس بک ڈائری : 30 جولائی 2024 جب انسانوں کو کسی دوسرے انسان کی موت یا تکلیف پر دکھ ہونا ختم ہو جائے تب وہ انسان نہیں صرف سماجی روبوٹس رہ جاتے ہیں پہلے انہیں سماجی جانور کہا جاتا تھا یہ غلط ہے جانور میں بھی احساس ہوتا ہے لیکن روبوٹس صرف انسٹرکشنز اور اپنے سٹرکچر کے پابند ہوتے ہیں ۔ جدید انسان کا یہ سٹرکچر سرمایہ دارانہ سماج نے بنایا ہے اس سماج کے انسانوں کو  یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کے اندر سے احساس کی موت ہو چکی ہے  پارا چنار ہو ، بنوں ہو ، بلوچستان ہو  یا ہماری عام زندگی ۔ ہم سب اتنے ہی بے حس ہیں ہمیں معدودے چند قریبی لوگوں کے دوسرے انسان محسوس نہیں ہوتے کسی کے لیے کچھ نہ کر پانا اک بات ہے وہ ویلڈ عذر ہے لیکن احساس تک نہ  ہونا یہ انسانی کارنامہ ہے جو سرمایہ دارانہ رویوں اور جہالت سے پنپتا ہوا ہمارے اندر داخل ہو چکا ہے اب انسان کی قیمت نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے مطابق کام آنے والے انسانوں کی قیمت طے کر کے ہم سوچتے ہیں کہ اس سے بدلے میں ہمیں کیا مفاد حاصل ہوگا ہمارے نہ تو رشتے حقیقی رہے ہیں نہ جذبات ۔ ہم ایک دن موت کی خبر سن کے دوسرے دن پھر بالکل نارمل ہو جاتے ہ...

خلیل الرحمن قمر سوشل میڈیا اور ہماری منتشر خیالی

فیس بک ڈائری :  ۳۰ جولائی ۲۰۲۴  — ۱- خلیل الرحمن کی باتوں اور اس کے کردار میں بُعد ضرور ہے اور ہم اس کے سخت مخالف ہیں لیکن کسی کے ساتھ میٹنگ چاہے جس نوعیت کی بھی ہو وہ اس کا ذاتی فعل ہے ہم لکھت میں اس کے تضاد پر بات بھی کریں گے سخت سے سخت تنقید بھی لیکن کسی کی بھی آزادی کے خلاف نہیں ہو سکتے ۔  ۲- دوسری بات یہ ہے کہ بنوں کے واقعات کو میڈیا پر نہیں لایا گیا تو سوشل میڈیا اک طاقت تھی تب اس کی چار بجے والی میٹنگ کی خبر لیک ہوئی اور  ہمارے دوست اور فیس بک کے روشن خیال یہ بھول گئے  کہ ہم نے بولنا کس پر ہے اور لگے میمز بنانے لمبی لمبی تحریریں اس بے وقوف پر لکھنے ۔۔ اب پھر یہی ہوا ذرا لوگ پارا چنار پر بولنے لگے ہیں تو اک لیکڈ وڈیو پر زور و شور سے میمز بن رہے کچھ تصاویر بھی شئیر کی جا رہی ہیں جس میں اک عورت خود ہے تب آپ یا ہم کیا خلیل الرحمن سے الگ ہیں کیا فرق ہے ہم میں اور اس میں ۔۔ ہم اس کا مذاق بھی بنائیں گے تنقید بھی کریں گے لیکن کیا کوئی موقع محل نہیں ہوتا کیا تصاویر شئیر کرنا ضروری ہیں ملک کی حالت پر بولنے کے بجائے اب ہمیشہ کے لیے کیا یہی موضوع رہ گیا ہے ؟ کیا سوشل...

فیس بک ڈائری : 05 اگست 2024

 فیس بک ڈائری :  05 اگست 2024  #توقیررضامضامین ملک میں تعلیم کی شرح جب تک اوپر نہیں ہوگی تب تک کوئی موومنٹ بھی دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتی یہ سب التباس اور دھوکا ہے ۔ انقلاب کو طرح طرح کے چولے پہنا کر مختلف قوموں نے دیکھ لیے اکثر انقلاب پلانٹڈ نکلے  کسی قوم کو بڑی قوم بننے میں وقت لگتا ہے یہ مسلسل عمل ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ بڑی ترقی یافتہ اقوام بھی بیک ورڈ سفر کرنے لگتی ہیں ۔ میں تو بالخصوص اپنے خطے یعنی پورے برصغیر کے کسی انقلاب اور تحریک کو حقیقی نہیں مانتا یہ سب شعوری نہیں ایکپلائٹیشن ، پروپیگنڈا اور میڈیا کے زیر اثر ہوتا ہے  اس لیے نہ پرجوش ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نہ انتہائی نتیجے اخذ کرنے کی۔ ٹھیک ٹھیک نظام تعلیم کے بغیر دیانت اور سمجھ بوجھ نہیں آ سکتی ۔ ہمارے ہاں اب یہی ہوگا یا کسی کے لیے لڑیں گے یا قومی و مذہبی ریاستیں بنائیں گے ملکی سطح پر کوئی شعوری موومنٹ ممکن نہیں ۔ نوجوان طلبا سے بہت امیدیں رہتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی بہت دیر ہے  ۔ کیونکہ یہاں اک قوم نہیں رہتی یہ تنوع اور ڈائورسٹی جہاں برصغیر کے لیے نعمت ہے وہیں بہت بڑی رکاوٹ بھی ہے یا اسے رکاوٹ...