خلیل الرحمن قمر سوشل میڈیا اور ہماری منتشر خیالی
فیس بک ڈائری : ۳۰ جولائی ۲۰۲۴
—
۱- خلیل الرحمن کی باتوں اور اس کے کردار میں بُعد ضرور ہے اور ہم اس کے سخت مخالف ہیں لیکن کسی کے ساتھ میٹنگ چاہے جس نوعیت کی بھی ہو وہ اس کا ذاتی فعل ہے ہم لکھت میں اس کے تضاد پر بات بھی کریں گے سخت سے سخت تنقید بھی لیکن کسی کی بھی آزادی کے خلاف نہیں ہو سکتے ۔
۲- دوسری بات یہ ہے کہ بنوں کے واقعات کو میڈیا پر نہیں لایا گیا تو سوشل میڈیا اک طاقت تھی تب اس کی چار بجے والی میٹنگ کی خبر لیک ہوئی اور ہمارے دوست اور فیس بک کے روشن خیال یہ بھول گئے کہ ہم نے بولنا کس پر ہے اور لگے میمز بنانے لمبی لمبی تحریریں اس بے وقوف پر لکھنے ۔۔ اب پھر یہی ہوا ذرا لوگ پارا چنار پر بولنے لگے ہیں تو اک لیکڈ وڈیو پر زور و شور سے میمز بن رہے کچھ تصاویر بھی شئیر کی جا رہی ہیں جس میں اک عورت خود ہے تب آپ یا ہم کیا خلیل الرحمن سے الگ ہیں کیا فرق ہے ہم میں اور اس میں ۔۔ ہم اس کا مذاق بھی بنائیں گے تنقید بھی کریں گے لیکن کیا کوئی موقع محل نہیں ہوتا کیا تصاویر شئیر کرنا ضروری ہیں ملک کی حالت پر بولنے کے بجائے اب ہمیشہ کے لیے کیا یہی موضوع رہ گیا ہے ؟ کیا سوشل میڈیا کی آزادی میمز نے ہائی جیک کر لی ہے؟ اگر کسی بے وقوف کی بےوقوفی پر ہنسنا بھی ہے تو لمحہ بھر ہنسیے اسے سنجیدہ بھی لیں اگر اس کی باتوں سے لوگ اس کے فالوورز بنتے ہیں اور وہ اثرانداز ہو رہا ہے مگر اس کے مقابل اپنی بات رکھنی چاہیے ۔۔مجھے لگتا ہے یہ سب ڈرامے ہماری اٹینشن ڈائورٹ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں یوں بھی اوریا ساحل خلیل وغیرہ ایسے لوگ یوں بھی پلانٹڈ ہوتے ہیں ہمیں اپنے ہدف سے نہیں چاہیے کہ اس خوب صورت ملک اور اس کی عوام کا کیا حشر ہو رہا ہے ۔ عوام کے لیے ہی تو لکھاری لکھتے ہیں عوام کا مزاج اگر مضحکہ خیز اور مزاح پسند ہے تو اسے بھی ہم نے ہی اپنی لکھت سے بدلنا ہے ۔۔ ہمیں رنگ و نسل کے تعصبات کے خلاف لکھنا ہے ، ملک میں ناپید آزادی کے خلاف لکھنا ہے آگ اور خون کے کھیل کے خلاف لکھنا ہے جس میں ہم برس ہا برس سے جل رہے ہیں ہمارے پاس اب ہر وقت اس چٹکلے بازی کے لیے وقت نہیں وقت سنجیدگی کا ہے بے شک اس میں لذت کم ہو گرداب میں پھنسے ہوئے لوگ وقت کی سازش پر ہنس نہیں سکتے انہیں تدبیر کی فکر کرنی چاہیے ۔ فیس بک پر ہمیں بولنے تک میں اک خاص اسلوب اختیار کرنا ہوگا جو انتشار نہیں تدبر پیدا کرے یہی غلطی کئی ایکٹوسٹ اداروں کے خلاف بول کر کرتے آئے ہیں ہم آزادی کے حق دار ہیں جو ادارے ہماری آزادی چھینتے ہیں ان پر تنقید بھی کریں گے لیکن کسی فیشن کے تحت نہیں کہ جیسے اک پٹاخہ پھوٹا تو ہجوم میں ہلچل مچ گئی ہمیں ایسی ہلچل نہیں چاہییے جو ہم سے فکر کی صلاحیت بھی چھین لیں صورت حال کا جائزہ بھی نہ لینے دے کہ دراصل ہو کیا رہا ہے اور یہ کیا ہم بول رہے ہیں یا کوئی بول رہا ہے تو ہم بھی اس کے ساتھ زبان کے چسکے کے لیے بولنے لگ گئے ہیں۔ ہمیں دائیں بائیں کے ہر بیانیے کو چھان پھٹک کر اپنی بات نکال کر بات کرنی ہوگی کہ ہم کیا سوچتے ہیں ۔۔۔۔
—
توقیر رضا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں