فیس بک ڈائری : 05 اگست 2024
فیس بک ڈائری : 05 اگست 2024
#توقیررضامضامین
ملک میں تعلیم کی شرح جب تک اوپر نہیں ہوگی تب تک کوئی موومنٹ بھی دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتی یہ سب التباس اور دھوکا ہے ۔ انقلاب کو طرح طرح کے چولے پہنا کر مختلف قوموں نے دیکھ لیے اکثر انقلاب پلانٹڈ نکلے کسی قوم کو بڑی قوم بننے میں وقت لگتا ہے یہ مسلسل عمل ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ بڑی ترقی یافتہ اقوام بھی بیک ورڈ سفر کرنے لگتی ہیں ۔ میں تو بالخصوص اپنے خطے یعنی پورے برصغیر کے کسی انقلاب اور تحریک کو حقیقی نہیں مانتا یہ سب شعوری نہیں ایکپلائٹیشن ، پروپیگنڈا اور میڈیا کے زیر اثر ہوتا ہے اس لیے نہ پرجوش ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نہ انتہائی نتیجے اخذ کرنے کی۔ ٹھیک ٹھیک نظام تعلیم کے بغیر دیانت اور سمجھ بوجھ نہیں آ سکتی ۔ ہمارے ہاں اب یہی ہوگا یا کسی کے لیے لڑیں گے یا قومی و مذہبی ریاستیں بنائیں گے ملکی سطح پر کوئی شعوری موومنٹ ممکن نہیں ۔ نوجوان طلبا سے بہت امیدیں رہتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی بہت دیر ہے ۔ کیونکہ یہاں اک قوم نہیں رہتی یہ تنوع اور ڈائورسٹی جہاں برصغیر کے لیے نعمت ہے وہیں بہت بڑی رکاوٹ بھی ہے یا اسے رکاوٹ بنایا جاتا رہا ہے ایکتا کی کوئی ممکنہ صورت نہیں نظر آتی ۔ جب تک یہاں کا ہر باسی چاہے وہ کوئی قومیتی نظریہ رکھتا ہے یا مذہبی سب سے پہلے یہ سمجھے کہ ہم جس خطے کے باسی ہیں ان میں کامن تو سب سے پہلے جغرافیہ ہے جو ہم شئیر کرتے ہیں تو اس لیے ہم اس حد تک تو ایک ہیں اگر کوئی ایک خطرے میں ہے تو ہم بھی خطرے میں ہیں ۔ اس خطے کی جغرافیائی تاریخ ہے جس میں ہم سب کی سانجھ ہے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہے پھر ہم ایشیائی ہیں یا آفاقی ہیں ۔ یہ جو فلسفہ ہے کہ نہ تورانی رہے باقی نہ افغانی وغیرہ وغیرہ اس میں سب سے پہلے جو اگنور ہوا ہے وہ اپنے برصغیر کا آدمی ہے ہم عربوں ایرانیوں کی سانجھ سے جڑنے کے فلسفے سے پہلے جہاں ہیں وہاں اپنا ہونا ثابت کریں اور اس زمین کی قدر کریں وگرنہ ہم صرف کٹھ پُتلیاں ہی رہیں گے اور یہ خطہ عالمی کھلاڑیوں کے لیے کھیل کا میدان رہے گا
-
توقیررضا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں