فیس بک ڈائری : 30 جولائی 2014

 فیس بک ڈائری : 30 جولائی 2024


جب انسانوں کو کسی دوسرے انسان کی موت یا تکلیف پر دکھ ہونا ختم ہو جائے تب وہ انسان نہیں صرف سماجی روبوٹس رہ جاتے ہیں پہلے انہیں سماجی جانور کہا جاتا تھا یہ غلط ہے جانور میں بھی احساس ہوتا ہے لیکن روبوٹس صرف انسٹرکشنز اور اپنے سٹرکچر کے پابند ہوتے ہیں ۔ جدید انسان کا یہ سٹرکچر سرمایہ دارانہ سماج نے بنایا ہے اس سماج کے انسانوں کو  یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کے اندر سے احساس کی موت ہو چکی ہے  پارا چنار ہو ، بنوں ہو ، بلوچستان ہو  یا ہماری عام زندگی ۔ ہم سب اتنے ہی بے حس ہیں ہمیں معدودے چند قریبی لوگوں کے دوسرے انسان محسوس نہیں ہوتے کسی کے لیے کچھ نہ کر پانا اک بات ہے وہ ویلڈ عذر ہے لیکن احساس تک نہ  ہونا یہ انسانی کارنامہ ہے جو سرمایہ دارانہ رویوں اور جہالت سے پنپتا ہوا ہمارے اندر داخل ہو چکا ہے اب انسان کی قیمت نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے مطابق کام آنے والے انسانوں کی قیمت طے کر کے ہم سوچتے ہیں کہ اس سے بدلے میں ہمیں کیا مفاد حاصل ہوگا ہمارے نہ تو رشتے حقیقی رہے ہیں نہ جذبات ۔ ہم ایک دن موت کی خبر سن کے دوسرے دن پھر بالکل نارمل ہو جاتے ہیں ۔ موت کی خبر ہم کوئی خبر نہیں  یہ خبر اب پرانی ہو چکی اور اس کے اسباب پر بات کرنے والے بھی ناپید ہو چکے۔ زندگی پر بات تب مکمل ہو گی جب موت کے المیے میں ہم دوسرے انسان کے سانجھی ہوں گے ۔ برس ہا برس سے ہماری بستیوں نے ایک ہی خبر سنی ہے اور وہ ہے موت اس لیے ہم نے اس سے نظریں چرانا سیکھ لیں اور اک آرٹیفیشل خوشیوں سے بھری زندگی کی تگ و دو میں لگ گئے کہ بستیاں جلتی ہیں تو جلنے دو لوگ مرتے ہیں تو مرنے دو آگ ابھی ہمارے گھر سے تو دور ہے ۔ اس فکر نے وہ ہمارے مجموعی احساس میں وہ یک جہتی پیدا نہیں ہونے دی  کہ ہم صورتحال کا ٹھیک سے جائزہ کر سکتے ۔ کامیو خودکشی پر کس قدر تفصیل سے بات کرتا ہے اسے اپنا موضوع بناتا ہے اور اس کے پیچھے کارفرما نفسیاتی عوامل کو زیر بحث لاتا ہے کیونکہ اسے اپنے جیسے ذہین اور حساس انسانوں کا ایسا عمل  تکلیف میں مبتلا کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں المیے سے بھاگ کر مزاح میں پناہ لینے کا رواج عام ہو چکا ہے ۔ کسی ملک میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور کہیں کھیل کود کے میدان سج رہے ہیں ۔ یہ پرانا عہد نہیں کہ بستیوں کو بستیوں کی خبر نہیں ہوتی تھی آج کے انسان کی سانجھ کا دائرہ بھی بڑھ چکا ہے جس نے اک بےچینی اور دکھ کا  دائزہ بنا دیا ہے مگر وہیں اس مسلسل عمل نے ہمیں یہ بھی سکھا دیا ہے کہ اس دائرے سے کیسے نکلنا ہے اور اپنی زندگی انجوائے کرنا ہے اب ہماری حالت یہ ہے کہ اگر اپنے سامنے بھی اک انسان کو مرتا ہوا دیکھ لیں تو زیادہ سے زیادہ اک پوسٹ لگا لیں گے یاکچھ افسوس کر لیں گے مگر دوسرے دن ہمیں یاد تک نہیں ہوگا کہ کل کیا ہوا تھا ۔ نئے انسان کی خوبیاں بجا مگر اس کے اس بدلتے ہوئے روپ سے اسے خوف آنا چاہیے اور اسے واپس  بدلاو اور سانجھ کا رستہ اپنانا چاہیے کہ ہم مشینیں نہیں انسان ہیں انسان ❤️‍🩹🙏🏼۔ 


توقیر رضا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza