اشاعتیں

جون 29, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نثری نظم ۱ - جُوڑے میں کِھلا پھول

 جُوڑے میں کِھلا پُھول  — گنتی کرو !  میرے ہاتھ میں  نیند کی کتنی گولیاں ہیں ؟  مٹھی بھر نیند کی گولیوں سے  سال بھر کے خواب خریدے جا سکتے ہیں  یا پھر ابدی نیند!  میں کوئی دن  نیند کے اس پار جہاں  دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں  جہنم کی دیوار پھلانگ کر تم سے ملنے آوں گا  اور  سُرخ پھولوں کی چنگیر سے اک پھول چرا کر  تمہارے جُوڑے میں سجاوں گا    آگ میں لپٹے ہوئے میرے ہاتھ تمہارے جنتی جسم کو چھونے سے ڈرتے ہیں  اور میری ہر ممکنہ خواہش کو روشن ہونے سے پہلے ہی راکھ کر دیتے ہیں  موت سے پہلے مَیں  تمہارے جُوڑے میں  اپنی خواہش کا پُھول کِھلانا چاہتا ہوں  -  توقیر رضا Tauqir Reza https://www.facebook.com/Tauqir-Reza-1028598150536964/