اشاعتیں

اکتوبر 17, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تبصرہ : موتیے کے نابینا پھول | منیر احمد فردوس

 موتیے کے نابینا پھول پر “ منیر احمد فردوس جی “ کا تبصرہ جو کتاب کے پہلے حصے “ آگ سے دُھلے آنگن “ کو کوور کرتا ہے ♥️🙏🏼 بہت شکریہ   ••• آگ کبھی جھوٹ نہیں بولتی ••• وہ ماڈرن نظم ہی کیا جو قاری کا ہاتھ تھام کر اسے نئے فکری جہانوں پر دستک دینے کا ہنر نہ سکھائے اور نظم بھی ایسی جو آگ جیسے استعارے میں پک کر تیار ہوئی ہو۔ جی ہاں وہی آگ جو اس دھرتی پر بگ بینگ کی صورت میں نمودار ہوئی اور زندگی کے جنم میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ تب سے آگ جل رہی ہے، زندگی نمو پا رہی ہے اور ہم شگوفوں کی طرح پھل پھول رہے ہیں۔  موتیے کے نابینا پھول کی نظموں میں بھی آگ استعارے کی صورت میں جل رہی ہے، جس میں فکر و فلسفہ کی معنویت پک رہی ہیں، جس کی تپش قاری کو اپنے وجود کی تہوں تک اترتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے جو اسے فہم و فراست کے نئے مدار کھوجنے پر اصرار کرتی ہے۔ نظموں میں موجود استعاراتی آگ سچ مچ میں ایسی آگ ثابت ہوتی ہے جو ہمیں وجدانی طور پر کائنات کی وسعتوں میں جلتی نظر آتی ہے یا ٹمٹماتی دکھائی دیتی ہے جیسے کہ ہماری ملکی وے گلیکسی میں روشن اربوں کھربوں ستاروں، سیاروں اور سیارچوں میں قرنوں سے آگ جل...