تبصرہ : موتیے کے نابینا پھول | منیر احمد فردوس

 موتیے کے نابینا پھول پر “ منیر احمد فردوس جی “ کا تبصرہ جو کتاب کے پہلے حصے “ آگ سے دُھلے آنگن “ کو کوور کرتا ہے ♥️🙏🏼 بہت شکریہ  


••• آگ کبھی جھوٹ نہیں بولتی •••


وہ ماڈرن نظم ہی کیا جو قاری کا ہاتھ تھام کر اسے نئے فکری جہانوں پر دستک دینے کا ہنر نہ سکھائے اور نظم بھی ایسی جو آگ جیسے استعارے میں پک کر تیار ہوئی ہو۔ جی ہاں وہی آگ جو اس دھرتی پر بگ بینگ کی صورت میں نمودار ہوئی اور زندگی کے جنم میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ تب سے آگ جل رہی ہے، زندگی نمو پا رہی ہے اور ہم شگوفوں کی طرح پھل پھول رہے ہیں۔ 


موتیے کے نابینا پھول کی نظموں میں بھی آگ استعارے کی صورت میں جل رہی ہے، جس میں فکر و فلسفہ کی معنویت پک رہی ہیں، جس کی تپش قاری کو اپنے وجود کی تہوں تک اترتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے جو اسے فہم و فراست کے نئے مدار کھوجنے پر اصرار کرتی ہے۔


نظموں میں موجود استعاراتی آگ سچ مچ میں ایسی آگ ثابت ہوتی ہے جو ہمیں وجدانی طور پر کائنات کی وسعتوں میں جلتی نظر آتی ہے یا ٹمٹماتی دکھائی دیتی ہے جیسے کہ ہماری ملکی وے گلیکسی میں روشن اربوں کھربوں ستاروں، سیاروں اور سیارچوں میں قرنوں سے آگ جل رہی ہے اور ان کی شعاعوں سے ہم پک رہے ہیں اور زندگی جی رہے ہیں۔ 


توقیر رضا کی نثری نظموں کی ہر سطر سے قاری وہ لطف لیتا ہے جو ایک رند جرعہ جرعہ مے سے کشید کرتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ موتیے کے نابینا پھول کی نظمیں سرسری پڑھنے والوں کو اپنی قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتیں، اس لیے اس کتاب کا حق ہے کہ اپنے اندر سے پوری طرح سے ہجرت کر کے ان نظموں میں اترا جائے اور اس میں موجود جدلیاتی فکر و معنی کی نئی جہتوں کی طرف اڑان بھری جائے۔ گہری layers کی حامل توفیر رضا کی نظمیں اپنے اندر کہیں کہیں اکہری layer بھی رکھتی ہیں جو بعض اوقات یک سطری یا دو سطری نظمیں اپنی تخلیقی فکر میں اتنی بڑی نظمیں ثابت ہوتی ہیں کہ جن میں داخل ہوتے ہی کسی بلیک ہول کی طرح قاری کے لیے وقت رک جاتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ملتا، جیسا کہ یہ چند ایک یک سطری نظمیں ملاحظہ ہوں:


• آگ کے پجاری کو کیا خوف کہ دھوپ کتنی تیز ہے۔


• دیکھنا! آگ سے کنگھی کرتے ہوئے

تمہارے ہاتھ نہ جل جائیں۔


• راکھ میں دو آنکھیں جلنے سے رہ گئیں

جو نیلے آسمان کو گھور رہی ہیں۔


• دانتے کو کلمہ نہیں آتا

دانتے کو گنتی آتی ہے


• آگ کبھی جھوٹ نہیں بولتی


• مٹی کی کہانی بہت پرانی ہے


• جب تم اپنے آئینوں پر جمی دھول دھو رہے تھے

آگ تمہارے پڑوسی کا گھر جلس رہی تھی


• میں دریا کا بیٹا ہوں

مجھے اک پہاڑ کی مدد جو جانا ہے


• سورج ہمارا کوئی عیب نہیں چھپاتا


َ• آگ کو بھی تھک ہار کر مٹی میں پناہ ملتی ہے


• رات کی رات آخر ایسا کیا ہوا

کہ تم دن کی مخالفت پر اتر آئے ہو


• میں نے بدھا کے لمبوترے کان میں اک سرگوشی کی

اور وہ دھیان کے چبوترے سے زمین پر آ گرا


توقیر رضا کی نظمیں پڑھتے ہوئے قاری اس طرح کی کئی حیرتیں ایک ساتھ جینے لگتا ہے جو موتیے کے نابینا پھول جیسی زرخیز کتاب سے رستا اس کے لیے رزق ثابت ہوتا ہے اور وہ فکرومعانی کے اس کشادگیِ رزق کی توقع نہیں کر رہا ہوتا جو اسے آگ کی بدولت نصیب ہے اور وہ گواہی دینے لگتا ہے کہ واقعی آگ کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔


کتاب سانجھ پبلشرز لاہور نے چھاپی ہے جس کی قیمت مبلغ 500 روپے ہے جو 03334051741 نمبر پر رابطہ کر کے منگوائی جا سکتی ہے۔


••• منیر احمد فردوس •••

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza