جون ایلیا اور ہماری اردو تنقید

 جون کی جو زبان ہے اور جو اس کے ایکسپریشنز  ہیں اس پر ہزار نادر مضامین قربان ۔ یہ مضمون نگاری ، نئے خیال اور بڑے شعر کی تلاش اردو والوں کے عجیب پلے پڑی ہے ۔ دنیا بھر کی شاعری میں ایکسپریشن ، کیفیت ، احساس ، جذبے ، انسانی نفسیات کے گونا گوں پہلووں کی جستجو اور بالخصوص منظر نگاری اور امیجز کو فوقیت حاصل رہی ہے ۔ ہمارے ہاں ساری تنقید اور غزل کی شاعری اسی ایک کھوج میں لگی ہے کہ بڑا خیال اور نیا مضمون لایا جاے ۔ اس پیمانے پر  بڑے بڑے شعرا  کے دیوان چند اشعار بھی نہیں دے پاتے ۔ بہت لوگ غزل میں اسی بنیاد پر ضائع ہو گئے ۔ پھر بہت سے تجربات پر نکل پڑے پر بات نہیں بنی ۔ امید ہے کوئی ایسا نقاد پیدا ہو جو ان معیارات کو بدلے اور جدید عہد سے ہم آہنگ کرے اور غزل سے ہٹ کر بھی تنقید کرے جیسے میرا جی نے بہت خوب صورت تنقید کی ۔ وزیر آغا کی امتزاجی تنقید بڑا اہم کام تھا جو مشرق و مغرب کی شاعری  کو سمجھنے کے لیے ایک پُل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے 

توقیر رضا

جاری ۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza