نظم : کوئلہ اور کپاس
کوئلہ اور کپاس
———
کالی رات میں
گھر سے باہر
جاتے جاتے ٹھہر گیا ہوں
انگیٹھی کے سُرخ کوئلے اپنی جانب کھینچ رہے ہیں
دیکھ رہا ہوں
اُس کو اپنی جانب آتے
دیکھ رہا ہوں
بیٹھ گیا ہے
انگیٹھی سے دور
وہ ڈر کر بیٹھ گیا ہے ۔
برف نے اس کی دونوں آنکھیں بھینچ رکھی ہیں
نازک سینہ کھینچ رکھا ہے
جانے کس دن اس مٹی پر لمس کا سورج اُترے گا
اور ہجر کی کالی رات کٹے گی
ابر چھٹیں گے
برف ہٹے گی
کب وہ کپاسی آنکھیں
میرے ساتھ کوئلہ کاٹیں گی
اور اک چنگاری بھڑکے گی ۔
—
توقیر رضا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں