ایں نارنگی اندر | رفعت عباس

 ایں نارنگی اندر 

توقیر رضا |Tauqir Reza 


آج صبح جب اٹھا تو اک بیت جو دماغ کے نہاں خانوں میں گونج رہا تھا 


شام تھیون تو پہلے پہلے ایہہ جئی وستی آسی 

وائیں ٹھڈیاں ٹھڈیاں مل سن ، پانڑی مِٹھڑا مِٹھڑا 


بے اختیار “ شام “ لفظ زیرلب دہراتے ہوئے آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے یہ دکھ کس سے کہیں کہ ہمارے پانیوں کو گدلا کر دیا گیا ، ان میں زہر گھول دیا گیا اور کبھی شام کی وستی سے پہلے ہمیں کربلا سے گزرنا پڑا  ہمارے دن فرات کے کنارے پیاس سے تڑپتے گزر گئے ، ہواوں کی گرم لُو سے ہمارے جسم جھلس گئے یہ ربط بھی اک عجب ڈھنگ سے پیدا ہوا کہ غزل کا یہ شعر جو میں ہمیشہ اک الگ ترنگ میں گاتا تھا آج اس نے اک اور کیفیت پیدا کر دی ۔ اسی کیفیت میں یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں 

 

مندرجہ بالا شعر رفعت عباس صاحب کی کتاب “ ایں نارنگی اندر “ سے ہے جو ان کی غزلیات کی کتاب ہے میرے خیال سے ایں نارنگی اندر جیسی شاعری کی کوئی نظیر اردو ، پنجابی شاعری میں نہیں ملتی ۔ یہ وہ کتاب ہے جو اس خطے کے باسیوں کو احساس کمتری سے نکالتی ہے ۔ اور اک الگ طرح کی مزاحمت سکھاتی ہے یہاں مور حملہ آور کے گھوڑوں کو بھگاتے نظر آتے ہیں ، جھمری جھمر ڈالتے ہوئے حملہ آور کو بتاتے ہیں کہ ہم تم پر بھی تلوار نہیں سینت سکتے ، رفعت عباس بتاتے ہیں کہ فرنگ فرانسیسی جو توپیں لے کر آئے ہیں ہم ان دھاڑیلوں ، حملہ آوروں کو اس لیے معاف کرتے ہیں کہ اسی بہانے وہ اپنی شاعری بھی تو ساتھ لے آئے ۔ یہ شاعری خود اپنے آپ کو اپنے تاریخی و تہذیبی وجود کو نئے سرے سے دیکھنا سکھاتی ہے ۔ یہاں دریا محض پانی کا شور نہیں تہذیب کا نغمہ ہے مچھیرے کا گیت ہے مچھلیوں کا گانا ہے ۔ جنگل یہاں محض درختوں کا جھنڈ نہیں درخت سانس لیتے وجود ہیں چرند پرند پکھی پکھیرو انسانوں جتنے بیش قیمت ہیں ۔ یہاں دیکھتے ہی دیکھتے مور کے کالے پیر سنہرے ہو جاتے ہیں ، اچھوت شہزادے نظر آتے ہیں مراثی نامہ بر معلوم پڑتا ہے یہ مقامیت ہمیں خود سے اپنے کرداروں سے محبت کرنا سکھاتی ہے کہ جنہیں ہمیشہ کم تر دکھایا گیا اور بتاتی ہے  کہ ہم مقامی تو کسی پر حملہ آور نہ ہوئے ہم میں شدت کیونکر پیدا ہوئی ہم تو پرامن خطے کے باسی ہیں ۔ ہمارے ہاں تو عرب سے پہلے بھی “ اللہ | اِلہ موجود تھا ہمارے درمیان تھا ہم اس سے اتنے مانوس تھے کہ ( گویا ہم میں سے ایک تھا )  یہ فاصلہ کس نے پیدا کر دیا - ہمیں مشرق وسطی کی عظمت بتانے اور نشاۃ ثانیہ جیسے خوابوں کی فکر سے پہلے اپنی اہمیت کو سمجھنا ہے ۔ ہمیں  ایرانی ، عربی ، یونانی اور مغربی فلسفہ اور تصورات سے قبل اپنی مقامی آئیڈیالوجی اور کلچر سے جڑنا ہے جو بالکل بھی گنجھلک نہیں انتہائی سرَل اور آسان ہے سراسر محبت ہے ہم راکھشس نہیں تو ہمیں ایسا کیوں دکھایا بتایا گیا۔ اردو شاعری کے بڑے شعرا بھی فلسفہ کے دلدادہ رہے اور مقامیت کے بغیر مشرقیت اور عالمیت کے دھارے میں شامل ہو جانے میں لگے رہے جب کہ یہ عملی طور پر ناممکن ہے کہ ہم اپنا اصل اپنی زمین چھوڑ کر کسی بھی اجنبی فلسفے یا تھیوری کے پیچھے بھاگ پڑیں ہم اس عمل سے اپنی شناخت کیسے پیدا کر پائیں گے اور کوئی ہماری جداگانہ حیثیت کیونکر قبول کرے گا اور عملا یہی ہوا بھی کہ ہمارے ہاں سب تھیوریز اور ادبی تصورات ادھارے کے معلوم ہوتے ہیں کہ جن سے ہمارا قاری اک مصنوعی ربط پیدا کرتا ہے جو تادیر قائم نہیں رہ پاتا اس پر تفصیل  سے بات ہونی چاہیے اور اس خطے میں پیدا ہونے والی شاعری کا تقابلی جائزہ لیا جانا  چاہیے اس سے ہم مختلف مقامی زبانوں کی شعریت اور رمزیت سے واقف ہوں گے ۔ رفعت عباس صاحب نے تو پوسٹ ماڈرن حالت کو بھی مقامی آنکھ سے دیکھا ہے انہیں پڑھتے ہوئے آپ کے اندر خوداعتمادی کی اک خاص سرشار کر دینے والی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ “ ایں نارنگی اندر “ کا اعجاز ہے جو ہمیں نئے سرے سے اپنا آپ تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے یہ تمام نصابی مغالطوں کو دوبارا کنگھالنے پر اکساتا ہے ۔ یہاں ہیر کے قتل کا مقدمہ درج ہوتا ہے رومانٹسزم کے پیچھے کی الم ناک داستان ہے کیفیات کے پیچھے کی لاجک ہے  ۔ فوک ٹیلز کو پھر سے دیکھنے کی کاوش ہے ۔ یہاں کی ماورائی یا سرئیل فضا طلسماتی ضرور ہے مگر وہ واپس زمین پر کھینچ لاتی ہے فضا میں معلق نہیں رہنے دیتی یہ وہ شاعری ہے جو سراسر زمینی ہے اور اپنی تہذیبی شناخت کے لیے اشد ضروری ہے کہ ہم اس کتاب کو ضرور پڑھیں ۔ اور وہ نفسیاتی کھوکھلا پن جو ہمارے اندر جڑ پکڑ چکا ہے اسے  ختم کر سکیں۔ اپنے اندر کے راکھشس کو ہیرو میں تبدیل کر سکیں  یقین جانیے یہ کتاب  ہمارے لیے ایسی مشکل مہم کو بھی آسان کر دیتی ہے


جاری ۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza