کلیشے اور نت نئے تجربات

 کلیشے کو ہئیت کی تبدیلی سے مارا جاتا ہے  نہ کہ پرانے تخلیقی ڈھانچوں پر نت نئے تجربوں کی تکرار سے !  کلیشے لفظ کو بھی ہم نے دیگر کئی ترکیبات اور الفاظ کی طرح اس قدر بے دریغ برتا ہے کہ لفظ کا  اندرونی  اور تخلیقی معنی ہم سے گم ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم پرانے سانچوں میں نئی مٹی ڈال کے یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح نیا چہرہ نئی شکل نیا مجسمہ برآمد ہوگا ۔ جو کہ ناممکن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نئے عہد کے ساتھ بالکل بھی ہم آہنگ نہیں ہیں


 توقیر رضا

Tauqir Reza

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza