فیس بک ڈائری 04 اکتوبر 2014

 فیس بک ڈائری  04 اکتوبر 2014 


شیعہ ہو یا سنی دیوبندی ہو یا وہابی انہیں انسان کی موت کا کوئی دکھ نہیں ہے انہیں صرف اپنے مسلک سے پیار ہے دوسرے مسلک کا بندہ مر جائے یہ انسانی بنیاد پر تعزیت بھی نہیں کر سکتے بلکہ خوشی مناتے ہیں یعنی موت ان کے لیے کوئی سانحہ نہیں جشن کا موقع ہے ۔ کئی روشن خیال اور شدت پسند ملحد بھی ایسے ہیں اور ہر سماج میں ہیں یہ سارے گروہ انسانی نسل کے لیے خطرہ ہیں لیکن انہیں علم سے بدلا جا سکتا ہے  مرنے کی خواہش تو ان کے لیے نہیں کی جا سکتی ۔ یہ کتاب ، سنت اور دین کے ساتھ بھی مذاق کرتے ہیں  دکھ اس بات کا ہے کہ مسلسل ادبی حلقوں سے بھی ایسے لوگ نمودار ہو رہے ہیں جو ذاتی عقائد کی بنیاد پر انسانوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ یہ بنیادی اسباب ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کبھی مکالمہ کا جنم نہیں ہو سکا  اور مستقبل بعید تک اس کے کوئی چانسز نہیں کوئی اک اٹھتا ہے اور اپنے ہنر کو موت کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے طاقت کے پاس گروی رکھ دیتا ہے اور ہماری محنت ضائع کر دیتا ہے یہ سچ ہے روشن فکر ادیبوں کی محنتیں ضائع ہوتے ہوئے سخت دکھ ہوتا ہے جن کا گناہ اس سماج کو خوب صورت دیکھنا تھا وہ پورے معاشرے کو طبقات ، تفرقے اور تنگ نظری سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی محنتیں رائگاں جاتے دیکھنا اک المیہ ہے جس کے ہم عینی شاہد ہیں اور یار لوگوں کو ہماری باتیں جذباتی اور دیوانگی پر مشتمل لگتی ہیں خیر ہمارے بس میں لکھنے کے سوا کیا ہے ؟ مایوس ہم نہیں ہو سکتے کہ لیکھک مایوس ہو تو زوال کی سیڑھیاں اترتے معاشرے مزید پسپائی کر طرف چلے جاتے ہیں کچھ گواہی تو رہے کہ یہاں کچھ ایسے انسان بھی بستے تھے  جو انسان کی موت کا غم اور دکھ کرتے تھے اور اسے سانحہ قرار دیتے تھے ۔ ایک طرف عالمی سامراج ہے اور دوسری طرف یہ مددگار پُرزے ہیں جو چلتی پھرتی سوسائٹی کی مشین کو کبھی بھی جامد کر سکتے ہیں ۔  ہم بھی کچھ دیر افسوس کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مایوسی اور وحشت میں مبتلا ہو کر کچھ مثبت عمل نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر آپ ہماری نظموں میں بڑھتی ہوئی وحشت دیکھتے ہیں تو اس کا سبب دور دور تک امید کی کرن نہ ہونا ہے سو قاری کو کیسے دھوکا دیا جائے کہ سب ٹھیک ہے ۔۔ ہم میدان کارزار میں نہیں مقتل میں نہیں لیکن اپنی نظموں اور تحریروں میں ہم جیسے لیکھک آگ اور خون کے اس کھیل میں مرنے والوں کے ساتھ کئی بار مرتے ہیں ۔ میں نے کچھ برس قبل اک نظم جون لینن کی واپسی  لکھی اور اک طویل نظموں کی سیریز خوف زادہ لکھی جو کتابوں میں شامل نہیں کی کہ دل پھر بھی چاہتا ہے کہ ایسا نہ ہو مگر بالکل ویسا ہو رہا ہے جو ہمارے وجدان اور لاشعور نے ان وحشت ناک راتوں  میں دیکھا 💔 کاش ایسا نہ ہو کاش ہم بھی محبت پر نظمیں اور اشعار لکھ سکیں کاش ہمارے کسی لفظ میں دُکھ اور مایوسی کی پرچھائی نہ ہو کاش ہماری راتیں لطف بھری اور دن  خیال آور ہوں ایسے خیال جن سے وحشت نہ ہو جن کی خوب صورتی ہمیں اپنے وجود سے باہر بھی نظر آئے ۔  لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک سوائے لکھنے کے ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں جس سے اس تاریکی کو کم کر سکیں جس نے ہمارے دن اور رات کا گھیراو کر رکھا ہے ۔ ہم بھی انسانوں کی ہنسی دیکھ کر ہنسنا چاہتے ہیں نظاروں اور منظروں کے حسن سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں مگر ایسا ممکن نہیں ۔ ہم کوئی سیڈِسٹ نہیں ہم سے زیادہ زندگی کا حسن کس نے محسوس کرنا تھا ؟؟ مگر ھاں ہم نہیں تو شاید ہمارے بعد حالات بدلیں اس لیے ہم خواب دیکھنا بند نہیں کر سکتے اک یہی واحد راستہ ہے اک یہی وہ دُرز ہے یہی اک دراڑ ہے جہاں سے روشنی در آتی ہے اور ہمیں جینے اور پرامید رہنے پر اکساتی ہے ۔ اے روشن خیال دوستو اے ہماری تنہائی میں فکری ڈھارس بندھانے والو یہ کس راہ پر چل رہے ہو واپس لوٹ آو کیا تم بھی اپنے جیسے کسی ذی روح کو بنام مذہب و مسلک و الحاد یا طاقت کے حصول کی خاطر قتل کرنا جائز سمجھتے ہو؟ ہمیں امید ہے کہ تم ان تعصبات سے جلد ابھر جاو گے اور کسی ہاتھ کی کٹھ پُتلی نہیں بنو گے اور اس قافلے سے آ ملو گے جہاں تمہارا ہونا سجتا ہے جہاں تمہارے قلم  کی ضرورت ہے  ۔ ہم اس دن کا انتظار کریں گے 


بہ امید دیدار 


توقیر رضا  

.توقیر رضا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza