نظم : مُلکِ خداداد - توقیر رضا شاعری
نظم
ملکِ خداداد
----
خدا گلی سے گزر رہا ہے
خدا چھتوں پر سے اڑ رہا ہے
خدا کے سب بال و پر کُھلے ہیں
خدا کی مسجد ، خدا کا مندر ، خدا کا گرجا
(خدا کی بستی )
خدا کے سب بام ودر کُھلے ہیں
ہم اپنے پنجرے میں قید پنچھی
ہم اپنی بستی میں اجنبی ہیں
ہمارے رستوں پہ خونی باڑیں
( لگانے والے )
بھی سب خدا کے ہی آدمی ہیں
وہ چاہے جس بھی گلی سے گزرے
خدا کے سب راستے کھلے ہیں۔۔۔
توقیر رضا
Tauqir Reza Official
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں