ادونیس اور انور سن راے کے تراجم

 ادونیس سے تعارف اور انور سن راے کے تراجم

میں ابھی ادونیس Adonis  کو دریافت کرنے کی خوشی اور حیرت میں مبتلا تھا کہ یہ جان کر سرشار ہو گیا ہوں جو عرب کے اس بڑے  شاعر  کی کچھ نظمیں ہماری اپنی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔۔۔اور اس کارنمایاں کا سہرا انورسن راے کے سر ہے  ۔انور سن راے خود ایک معروف شاعر ،مترجم اور صحافی ہیں ۔۔  ادونیس کی نظموں کے تراجم پر مشتمل یہ کتاب " نیویارک کے لیے ایک قبر اور دوسری نظمیں " یقینا بہت اہمیت کی حامل ہے ۔۔مترجم ہونا ایک بہت سنجیدہ اور بڑی ذمہ داری کا منصب ہے۔۔ترجمہ بہت سے لوگ کر سکتے ہیں لیکن وہ بس لفظوں کی حد تک ایسا کر پاتے ہیں ۔۔زبان کے اندر ایک زبان ہوشیدہ ہوتی ہے جس کی بنیادیں اس زبان کے کلچر میں پیوست ہوتی ہے۔۔مترجم جب تک اس سے مانوس نہیں وہ لفظی ترجمہ تو کر لے گا لیکن وہ فضا، کیفیت اور تاثیر نہیں پیدا کر سکتا جو اصل فن پارے میں موجود ہوتی ہے ۔۔بہر صورت میں یہ کہوں گا کہ ترجمہ ایک اہم کام ہے اس کی اہمیت لگی بندھی غزل اور نظم کی اس دو جمع دو قسم کی  شاعری سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے اردگرد کثرت سے ہو رہی ہے ۔۔ ایسے تراجم آپ کو ایک بڑے ادبی منظر نامے سے جوڑتے ہیں۔اور سنجیدہ ادبی و علمی رویوں کی پرورش کرتے ہیں ۔۔ ایسا دونوں طرف سے ہنا چاہیے  جہاں آپ دوسری زبانوں کا ادب اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں اپنی زبان میں خلق کیے گئے ادب کو بھی دوسری دنیاوں تک پہنچانا چاہیے ۔۔ 


ادونیس سے میرے تعارف کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔۔میں نے چند ماہ قبل عربی شاعری کی انتھولوجی Victims of A map منگوای (اسی نام "جغرافیے کے معتوب "" کے عنوان سے انور سن رائے نے محمود درویش کی نظموں کا ترجمہ بھی کر رکھا ہے) ۔۔اس انتھولوجی میں تین عرب شعرا کی نظمیں شامل ہیں۔ محمود درویش ، سمیہ القاسم اور ادونیس۔۔۔سب کی طرح ادونیس نام پر میں بھی چونکا کہ یہ تو ایک گریک نام ہے یہ عرب شاعر کیسے ہو۔۔اس انتھولوجی میں جو تراجم۔تھے وہ بہت سہل لگے اور ادونیس کی شعری جمالیات مجھے سمیہ القاسم اور محمود درویش سے  مختلف محسوس ہوئی ۔


سو ادونیس کو مزید پڑھنے کے لیے میں نے آن لائن اس کی نظموں کا انتخاب منگوایا ۔۔جو کہ خالد متاوا KHALID MATAWA  نے کیا ہے۔۔خالد متاوا کو اپنی نظموں کے ترجمہ کرنے کے لیے خود ادونیس نے چنا ہے اور کہا ہے کہ یہ اس کی نظموں کے سب سے معیاری تراجم ہیں ۔۔اس انتخاب میں سو سے زاید نظمیں شامل ہیں جن میں کچھ نظمیں طویل اور تجرباتی نوعیت کی ہیں۔اور قدرے مشکل ہیں ۔


تعارف : 


ادونیس کو اس عہد میں عرب دنیا کا سب سے بڑا شاعر اور نقاد مانا جاتا ہے ۔ عرب شاعری میں نثری نظم کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی ۔ ادونیس 1 جنوری  1930میں سیریا میں پیدا ہوئے۔اور ان کی عمر لگ بھگ 89 سال ہے ۔ ان کا اصل نام علی احمد سعید اسبر ہے۔۔ جب کہ ادونیس Adonis نام سے مشہور ہیں یہ نام انہوں نے خود اوائل عمری ہی سے اپنے لیے چن لیا تھا۔۔۔ادونیس انیس سو پچتر 1975 سے پیرس میں مقیم ہیں ۔۔ 


ادونیس اپنے بے لاگ تبصروں اور دو ٹوک بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں اور اسی لیے انہیں ہمیشہ دائیں اور بائیں بازو کے ہر دو گروہوں کی جانب سے ہمیشہ سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔۔۔ناقدین انہیں عربی ادب کا T.S Eliot ٹی ایس ایلیٹ قرار دیتے ہیں۔۔اور ان کا نام نوبل انعام کے لیے کئی بار پکارا جا چکا ہے ۔۔۔ادونیس کے ادب ، مذہب ، اور سماج کے متعلق خیالات آپ یوٹیوب پر بآسانی سن سکتے ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان کی آزاد فکر اور دو ٹوک مگر دھیرج سے کہی  باتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے 


ادونیس کی شعری فضا اور جمالیات دوسرے عرب شعرا سے مختلف ہے۔۔۔ ایسا کیوں ہے اسے جاننے کے لیے مجھے اور آپ کو ادونیس اور دوسرے شعرا کو مزید پڑھنا پڑے گا ۔۔۔۔لیکن جو میں اب تک سمجھا ہوں ان میں دو وجوہات بہت اہم ہیں ۔۔(کسی کا اس سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں )


اول - ظہورِ اسلام سے پہلے کی شعری اقدار کی بازیابی

دوم - یورپ کی شعری جمالیات سے قربت


ادونیس کا یہ جملہ بہت مشہور ہے 

Religion Corrupted Poetry 


جبھی ادونیس نے اس بات پر بہت اصرار کیا ہے کہ نئے عرب شعرا کو اسلام سے قبل جو شاعری ہوئی اس کو دریافت کرنا ہوگا اور پھر سمجھنا ہوگا کہ دراصل عربی شاعری کس قدر بلند روایت کی حامل رہی ہے۔جسے گم کر دیا گیا  ۔۔ادونیس نے چودہ سو سال کی شاعری کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام کے بعد ان صدیوں میں کی جانے والی شاعری مذہب کے اثر سے آزاد نہیں ہو سکی جب کہ شاعرانہ افتاد اور اس کے جمالیاتی تقاضے کسی پابندی کو قبول نہیں کرتے ۔تو اس نظریے کے تحت ادونیس نے اپنا شعری سفر وہیں سے آغاز کیا۔۔اور المتنبی ، المعری ایسے عرب شعرا پر تحقیقی کام بھی کیا۔۔ادونیس اپنے اظہار میں خود کو بالکل آزاد رکھنے کے قایل ہیں اور انسان کو اس کی کلیت میں دیکھنے پر مصر ہیں۔۔ان کے نزدیک انسان اور انسانی سماج سے جڑا کوی پہلو نہیں جس پر شاعر بات نہیں کر سکتا ۔۔


دوم : یورپ میں قیام ۔۔۔ 


اس سے پہلے کہ یورپ نے ادونیس کی شعری جمالیات کو کیسے متاثر کیا ہم اپنی اردو شاعری کی تاریخ کا مطالعہ کریں  تو معلوم ہوتا ہے کہ  بیشتر شعرا جو یورپ یا مغرب میں آ بسے انہیں ایک عظیم تجربے کا سامنا ہوا ۔۔یہ دو مختلف دنیاوں کا مطالعہ ہے۔۔ایک طرف اپنے ملک اپنے سماج اور اور قدرے پچھڑے ہوے معاشرے سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک میں آ بسنا یہ مشکل کھڑی کرتا ہے کہ آپ اپنی زبان ، ثقافت اور سماج سے کٹ جاتے ہیں لیکن دوسری طرف آپ مغرب کے ترقی یافتہ اور جدید سماج کا کھلی آنکھوں مشاہدہ بھی کرتے ہیں ۔اب اگر ایسا شاعر اپنی تخلیقی صلاحیت میں طاقتور ہے اور وہ ان دونوں معاشروں کے مشاہدے کو جذب کر اپنے اندر ایک توازن پیدا کر لیتا ہے تو وہ ایک پُل کا کام کرتا ہے اور اس کا یہ گھمبیر مشاہدہ نئے شعری بیانیے تشکیل دینے میں مدد فراہم کرتا ہے  ۔۔اقبال ، ن۔م راشد وغیرہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔۔ جنہوں نے نظمِ معری اور آزاد نظم کو عروج عطا کیا  اور نئی ادبی زبان تشکیل دی۔۔محض ان دو شعرا پر موقوف نہیں ۔۔کئی عرب، ایرانی شعرا کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف شعرا اور ادیبوں کی مثال لی جائے تو کچھ نیا اور اچھوتا تجربہ کرنے میں وہی شعرا کامیاب ہوئے جن کا مطالعہ اور مشاہدہ بہت وسیع رہا اور انہوں نے مختلف معاشروں اور ان کے سماجی مسایل اور تہزیبی رویوں کو قریب سے دیکھا۔۔


(ادب میں نئی جہتیں اور اسلوب  تلاشنے کے لیے بعض اوقات سفر کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا لیکن اس کے لیے آپ کو بہرحال مختلف زبانوں کے ادب کا مطالعہ ہونا چاہیے یا پھر اشیا کو اپنے حسی تجربے اور مشاہدے  سے درک کرنے کی بے انتہا صلاحیت ۔۔۔ )


ادونیس کا نثری نظم کی داغ بیل ڈالنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔۔ فرانس میں بودلئیر اور آرتھر رامبو جیسے شعرا رہے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کی شعری روایت کو متاثر کیا ہے ۔۔ہمارے ہاں بھی نثری نظم کے بانیوں میں سے  قمر جمیل ، سارا شگفتہ نے برملا ان کا ذکر کیا ہے ۔۔بالخصوص قمر جمیل نے نثری نظم کا مقدمہ لڑتے ہوئے اپنے انٹرویو  میں  بودلئیر اور رامبو Arthur Rimbaud کا بار بار ذکر کیا ہے  ۔اور میرا جی تو بودلئیر سے بہت زیادہ عملا متاثر تھے ۔۔


(ادونیس بھی یقینا ان شعرا سے متاثر ہوئے ہوں گے جبھی وہ اپنے ہم عصر عرب شعرا سے مختلف شعری فضا بنا پاے ۔۔۔اور نثری نظم کی بنیاد رکھی۔)


جدید دنیا کے مسایل یوں بھی آپ کو نظم اور پھر نثری نظم کی طرف لے کر آتے ہیں ۔۔نثری نظم شاعری ہے یا نہیں ؟ ۔۔۔۔۔یا یہ کوی شاعری کی نسبتا کم تر صنف ہے یا ارفع میڈیم ہے   ۔۔ ان مباحث سے صرفِ نظر میرے نزدیک یہ بات بہت اہم ہے کہ اس صنف میں آپ دو ٹوک اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتے ہیں اور جنہوں نے نثری نظم کو اختیار کیا ان کا مقصد اپنی آواز بلند کرنا تھا اپنی بات کہنا تھی ۔۔ اسی لیے محمود درویش ، احمد شاملو ، ادونیس، پابلو نیرودا  ہمارے سامنے آتےہیں۔۔دو عظیم عالمی جنگوں کے نقصانات دیکھنے والی نسلیں اور پھر فلسطین ،شام , عراق اور دنیا بھر میں جاری کولڈ وار کے سبب مرنے والے لاکھوں لوگوں کو دیکھتے تخلیقی اذہان بے چین ہوے بغیر نہیں رہ سکتے اور ان کی شاعری کو بھی ایسا میڈیم چاہیے کہ جس میں وہ صاف اپنی بات کر سکیں۔۔۔ ایسے شعرا کی ایک طویل فہرست ہے  جنہوں نے اس طویل عرصے میں جنگ کے نقصانات اور سکڑتی ، گلوبل ولیج بنتی دنیا کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو لکھنے کے لیے نظم اور بالخصوص نثری نظم کو چنا ۔۔غزل  کے مخصوص ضابطے اور سانچے اس سب کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔۔


ادونیس کے پیشِ نظر بھی اپنے عصری مسایل تھے سو انہوں نے ان کے اظہار کی خاطر نثری نظم کو اپنایا لیکن نثری نظم  میں بھی ایک شاعرانہ وجاہت اور جمالیات کے ساتھ سامنے آے ۔۔ادونیس نے سیاست اور مذہب پر لکھتے ہوئے سطحی اور جذباتی رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ شعری جمالیات ، ادبی قدروں اور فنی تقاضوں کو بروے کار لاے۔۔ایک انٹرویو میں ادونیس نے اپنے ہم عصر شعرا بارے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ " میں ان شعرا کا نام نہیں لینا چاہتا اور نہ یہ کہتا ہوں کہ وہ اچھے شاعر نہیں ہیں ۔ لیکن گیتوں سے مشہور ہونے والی شاعری ایک شور ہے  جس کی عمر زیادہ نہیں ہوتی "  اسی لیے خود ادونیس نے مزاحمتی نظموں میں سیاسی یا جذباتی رنگ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے ۔۔


میرے خیال میں ادونیس کی یہ بات بہت درست ہے ! شاعری وہی زندہ رہتی ہے جو پہلے سے طے شدہ کسی نظریے سے نہیں بلکہ خالص جمالیاتی قدروں پر استوار ہوتی ہےجو سیاست ،مذہب اور  انسان کے سماجی رویوں  اور باطنی ضرورتوں  پر جذباتی انداز میں نہیں جمالیاتی پیراے میں بات کرتی ہے اور خارج سے متلعق ہونے کے باوجود اس کا خمیر خود شاعر کے اندرون سے اٹھتا ہے ۔۔ 


نوٹ : فی الحال اتنا ہی ۔۔یار باقی صحبت باقی ۔۔۔۔سانجھ سے انور سن راے جی کی کتاب کیسے منگوای جائے اس کے متعلق دوست رہ نمای فرمائیں۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza