غزل - توقیر رضا | Ghazal : Tauqir Reza
غزل
——
نئی نہیں کوئی دن کی خبر ہمارے لیے
وہی سفر وہی گردِ سفر ہمارے لیے
شجر میں چُھپ کے کہیں کوئی زاغ روتا ہے
اور آسماں سے برستا ہے ڈر ہمارے لیے
کہ چار حرفی محبت بھی گن کے ملتی ہے
شُمار ہوتے ہیں ، زیر و زبر ہمارے لیے
کہاں ہر ایک پہ تجریدِ زخم کھلتی ہے
خدا نے خلق کیا یہ ہنر ہمارے لیے
گلی گلی میں وہی رفتگاں کا ماتم ہے
کوئی فُغاں نہ کوئی نوحہ گر ہمارے لیے
——
توقیر رضا
#tauqirrezapoetry #توقیررضاشاعری#
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں