جذباتی نعرے بازی اور مسئلہ فلسطین

 محمود درویش کی کوئی کشمیر پر لکھی نظم سنائیں ؟  اگر یاد ہو -یہ جملہ معترضہ تھا ۔ مراد یہ ہے کہ اپنی زمین کا رونا بھی رو لیں  ہر وقت دوسروں کی فکر پڑتی رہتی ہے نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ کچھ اور ہی کر سکتے۔ یہ بس ہمارے پاکستانیوں کا ہی جذباتی مزاج باقی کوئی دنیا میں ایسے نہیں کرتا ۔  

پچاس باون مسلمان ملک ہیں جذباتی نعروں کے سوا کیا ہو رہا ہے؟ ہر خطے کے اپنے مسائل ہیں زمینی حقائق ہیں مذہبی عینک آپ کو بس سطحی سے مناظر دکھاتی ہے ان کے پیچھے کے حقایق نہیں بتاتی ۔ میرا فلسطین اور کشمیر کے متعلق وہی نظریہ ہے وہی اپروچ ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کی ہے ان سے بہتر اس ایشو کو نہ کسی مذہبی سکالر نے ایڈریس کیا ہے نہ کسی مذہب بیزار آدمی نے ۔ ان کے مطابق یہ جنگیں جتھوں اور گروہوں کی بنیاد پر نہیں ہوتیں آپ جس عہد میں زندہ ہیں اس کے تقاضے سمجھیں عالمی ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتے رہیں ۔ مظلومانہ رویہ اپنائیں تاکہ عالمی ضمیر آپ کے ساتھ کھڑا ہو ۔ ان کے ہاتھ میں بندوقیں اور پتھر نہ پکڑائیں اس سے کچھ نہیں ہو گا ۔ الٹا ان کو تشدد پسند قرار دے دیا جاے گا ۔پھر سوشل میڈیا کے احتجاج کی عالمی قوتوں کو کوئی فکر نہیں نہ انہیں کوئی فرق پڑتا ۔ خود ہمارے ملک میں کتنے لوگ مرے ؟ آئے روز کتنا جبر ہے کتنا ظلم ہے ؟ یہ آگ ائندہ ہماری طرف ہی بڑھ رہی ہے اب بھی سنجیدہ ہو کر سوچیں آنکھیں بڑی کرکے سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری کوئی شنوائی نہیں ۔باقی ظلم کی مذمت اپنی جگہ کوئی لبرل نہیں جو اس وقت اس کے مخالف ہو کہ فلسطین میں جو جبر ہو رہا ہے وہ ظلم ہے مگر بیرون ملک جو پڑھے لکھے لوگ رہ رہے ہیں ان کے اور آپ کے احتجاج میں بڑا فرق ہے ۔ میں تو ویسے ہی فیشن زدہ دیسی لبڑلز اور مذہبیوں سے چلتا ہوں اس کا ثبوت یہ کہ یہ ہر مسئلے کو اپنی تشہیر کا باعث بناتے ہیں اور ایک دوسرے کو جلی کٹی سناتے رہتے ہیں مگر اس بار کچھ لوگوں کی ایسی پوسٹس نظر آئیں کہ جیسے  فقط سوکالڈ مذہبی مفکرین کو ہی دکھ ہے ہر شے کا ۔نہیں جناب ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ کون ہوتے ہیں سرٹیفکیٹ بانٹنے والے کبھی غداری کا ، کبھی دہریت کا ۔ عام  قاری کو گمراہ نہ کریں بلکہ اسے جذباتیت سے اٹھا کر دانش اور معاملہ فہمی کی طرف لے کر آئیں ۔


-

توقیر رضا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza