Facebook Diary - Tauqir Reza
فیس بک ڈائری
—
فیس بک پر سواے حادثات اور سانحات کے کوئی خبر نہیں رہی ۔ رہا کچھ شعرا حضرات کا قبیلہ جس سے عرصہ ہوا مجھے کوئی علاقہ یا سروکار نہیں کیونکہ یہ سب سے غیرسنجیدہ اور بے حس طبقہ ہے ان کا بس چلے تو کسی کی میت یا جنازے پر بھی اک مشاعرہ برپا کریں ۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے اور ہو رہا ہے ۔ خیر یہ جہلا سدھرنے والے نہیں کوئی کسی شاعر کو جوکر کہہ رہا تھا تو میں نے کہا بھئی جوکر تو رمزیت دُکھ اور کرب کی کئی علامتوں کا مظہر ہوتا ہے اس عہد کے شاعر تو ہمارے سماج کا بدنما چہرہ ہیں ان سے نہ کسی سنجیدہ ایکٹوٹی کی توقع رکھیں نہ بات کی ۔
سیلاب ہو یا اسرائیل و غزہ کی جنگ اور ملک میں چل رہے جلسے ہی جلسے گرفتاریاں اور ضمانتیں یہ سب بکواس یونہی چلتی رہے گی اور ہم یونہی روتے پیٹتے مر جائیں گے ۔ ریاست کی ماں نہیں ریاست خود مر چکی ہے اسے کیا لگے کہ سیلاب میں کوئی شہر بہہ گیا ہے یا کوئی بستی اجڑ گئی ہے ۔ جتنے غیر سنجیدہ عوام ہیں ایسے ہی ہمارے حکمران ہمیں ملنے ہیں اور کیا توقع ہے؟ آپ بس ہر ایشو پر میمز بنائیں ، اسی شغل میلے میں مصروف رہیں اور ایک دن مر جائیں ! کائنات کو کیا لگے کہ زمین نامی سیارے پر کوئی بیہودہ قوم آباد ہے جسے کے ادیب باعث ننگ و عار ہیں جس کے شاعر مداری سے کم درجہ کے انٹرٹینر ہیں سائنس و دیگر فنون کا خانہ ویسے خالی ہے۔ ۔لے دے کے مذہبی شدت پسندی نام کی خارش ہے جو جسم و روح سے لپٹی ہے ۔ جانگیں کُھجاو سر کُجھاو کھانا کھاو ڈکار مارو اور سو جاو ۔ جاگو اور پھر سے یہی ۔امید نامی چیز باقی نہیں رہی اور رہنی بھی نہیں چاہیے۔ فکر سے ہمیں علاقہ نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہیے ، ہر طرف بس خوف ہے اور کیوں نہ ہو؟
امیدوں کے میٹھے چشمے سُوکھ گئے
خوف کا دریا جل تھل بہتا جاتا ہے
توقیر رضا
#TaunsaNeedsAttention
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں