Facebook Diary - Tauqir Reza

 کچھ لوگ بہت مثبت بننے کی کوشش کرتے ہیں اور نصیحت بھی کرتے ہیں ۔ ایک آرٹسٹ کس حد تک مثبت سوچ سکتا ہے اور اردگرد کی منفی صورتحال کے ساتھ مزاحم ہوئے بغیر کیسے گزارا کر سکتا ہے؟ آپ اگر مثبت ہیں تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ آپ محفوظ ہیں لیکن کئی لوگ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر پاتے یا وہ ایسا ظاہر نہیں کر پاتے ان کے پیچھے ان کی نفسیات اور سماجی ناانصافیوں کے مقابل ان کا ردعمل اور کئی دماغی الجھنیں جو ان کے دماغ میں  بِلٹ اِن ہوتی ہیں ۔ ہاں آپ کا ٹھیکہ ہرگز نہیں کہ ان کی میڈنیس کو سہاریں یہ بات بالکل درست ہے ۔ لیکن آپ کا ججمنٹل ہونا  بھی ان کے دائرے میں داخل ہونا ہے جب تک کوئی آرٹسٹ کسی انسان کے پرسنل دائرے میں داخل ہوئے بغیر اپنے یا سماج کے متعلق جو دل ہے راے رکھے بولے اسے آزادی ہے ۔ 

ویسے میرا اپنا ذاتی تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے میں نے مثبت اور شائستہ نظر آنے والے بہت سے افراد کو اندر سے بہت منفی اور ان کی خاموشی کو بہت نقصان دہ پایا  ہے  

کیا آپ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ثروت حُسین جیسا مثبت ، دعا کا شخصی رُوپ اور بے ضرر انسان خودکشی کی ایسی کوشش کرے گا ؟ تو ہمیں انسانی نفسیات کو پڑھنے سمجھنے کی ابھی بہت ضرورت ہے ۔ آرٹسٹ یا ذہین انسان کُجا کئی پیچیدگیاں تو آج کا انسان ویسے ہی پیدائش کے ساتھ  لے کر آ رہا ہے ۔ آتا رہا ہے اور آتا رہے گا ۔ مرنا بہت آسان ہے ان سب پیچیدگیوں سے زندگی نکالنا بہت بڑی بات ہے۔ پھر سماج میں کنٹریبیوٹ کرنا اس سے بھی بڑا کار خیر ہے۔ ایسے انسان ایک سے زیادہ سطحوں پر جی رہے ہوتے ہیں ۔ 

میری مانیں تو ہماری سوسائٹی میں پنپتا ہوا ججمینٹل سا رویہ بڑا ہی غیر انسانی رویہ ہے کہ دوسرے گھر کی دیوار کے پیچھے جھانک کر دیکھنا کہ کیا ہو رہا ہے اور اپنے کُھلے آنگن میں گھومتی بَلاوں کو فرشتے سمجھ کر خوش فہمی میں جیتے رہنا ہمارے سماجی مسائل کی بنیاد ہے ۔ یہ عارضہ فرد سے لے کر سماج کے ہر شعبے میں پھیل چکا ہے ۔


توقیر رضا 

Tauqir Reza

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza