فیس بک ڈائری - 20 فروری 2024

 فیس بک ڈائری - 20 فروری 2024 

ہمارے پاس ہی کیا مغرب کی سیاست سمجھنے والا تاحال چائنہ ، روس اور  پورے برصغیر میں بھی کوئی نہیں ۔ ان کے میڈیا جتنا طاقت ور میڈیا بھی ناپید ہے ان کے ہاتھ پاوں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم سے زیادہ یہ ہماری زبان ، جغرافیے کے مسائل اور تاریخ جانتے ہیں آپس کے تضادات کو جانتے ہیں خاص کر انڈو پاک کے میڈیا پرسنز ، ادیب ، صحافی اور ہر طرح کے تخلیقی آدمی کو جو عوام پر اثر انداز ہو سکتا ہے بیانیہ بنا سکتا ہے مغرب کو از سرنو دیکھنے کے بعد سفر طے کرنا چاہیے اور لازما کچھ عرصہ ان ممالک میں رہنا بھی چاہیے اگر ممکن ہو یہ اک ناقص سے طالب علم کی راے ہے جو گزشتہ 12 سال سے ان کے ملک میں قریب سے ان کو دیکھ چکا ہے ۔ قریب سے مراد یہ نہیں کہ میں صحافی ہوں مگر سنتا ہوں دیکھتا ہوں ان کے کئی طرح کے پیشوں میں کام کیا ہے ہر طرح کی عوام دیکھی ہے ۔ دن بدن یہ احساس ہے کہ ہماری سیاست ، علم ، نظریات کی کوئی جڑ مضبوط ہونے سے پہلے یہ اک تھیوری سے ہمیں صدی پیچھے دھکیل دینے کی طاقت رکھتے ہیں ہاں آپ نے صحیح سنا صرف اک تھیوری سے !!! اور ہمارے اعلی درجہ کے جینیس ادیب صحافی شاعر بھی کوئی اپنا بیانیہ نہیں رکھتے عام آدمی کا تو کوئی سوال ہی کیا ۔ یہ کہنا کہ ہم ہر چیز میں سازش ڈھونڈتے ہیں بجا ہے مگر ایسا ہے بھی عالمی سیاست خصوصا امریکا وغیرہ کے اثر سے جو ہمارے ہاں ہے آج کی تاریخ میں کوئی عقل مند کیسے انکار کر سکتا ہے ہماری ہر طرح کی تحریکیں تک انہی کے تانے بانے سے چلتی ہیں  جن کا حصہ ماضی میں بھی ہمارے ادیب بڑے شوق سے رہے ہیں اب بھی ہیں ۔لیکن اس سب کے بعد مایوسی نہیں نہ احساس کمتری کی ضرورت ہے مگر اہلیت پیدا کرنا تو ضروری ہے کہ نہیں ؟ 

ترقی یافتہ اقوام کی سیاست کو سمجھے بغیر آج اک قدم بھی نہیں چلا جا سکتا ۔ پڑوسی ملک بھی ان کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے مگر ہماری طرح دنیا سے کٹ کر بیٹھا تو نہیں ۔ مصنوعی بھوک ہم پر لادی گئی ہے اور کرپشن بھی  ۔ اسباب اور امکان ہمارے اندر موجود ہیں   شعوری اور عملی کمزوریاں بھی ہم میں ہیں وگرنہ کوئی استعمال کیسے کر سکتا ہے؟ حکمران جو ہم پر مسلط ہیں ان جیسا کرپٹ کردار ہم سب کے شب و روز کا حصہ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ ہم اگر اتنے پیچھے ہیں ایک تو اس کے اسباب بھی ہمیں ہی جاننے ہیں اور درست کرنے ہیں اور دنیا کیا کرتی ہے کیا کر رہی ہے کیا کرے گی یہ نظربھی پیدا کرنی ہے ۔ آنے والی دہائیوں میں تو اس کا کوئی چانس نہیں ۔ ادیب کوئی گفتگو نہیں کرتے عالمی مسائل پر کہ عام عوام سنے  کتاب کوئی لکھی بھی جائے جو کہ مایوس کن حد تک کم ہے اور عوام کب پڑھتی ہے ؟ 


ٹی وی پر ہر چینل پر صرف کامیڈی شوز ہیں ، انٹرٹینمنٹ میں کچھ ادبی میلے ٹھیلے ہیں ،  جو پڑھی لکھی بات ہے زوال پذیر معاشروں میں یہ صرف دانش کا دکھاوا اور بہکاوا ہوتے ہیں ۔ سائنس پر بات کرنے کے یُگ میں ہم بچے بچے کو شاعری اور جگتیں  سنا رہے ہیں ۔  وہی بات صادر آتی ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا ۔ دس کتابوں کی اشاعت سے بھی زیادہ خرچ کر کے میلے سجائے جاتے ہیں جہاں وہی پانچ ، سات گنے چنے چہرے ہیں  اور اس سب صورت حال میں سب سے بڑا مجرم میں ہوں یا وہ تخلیقی اذہان ہیں جن کی فطرت میں مزاحمت خدا نے رکھی ہے اور وہ اس پر خاموش ہیں ۔ مغرب کی ترقی کی مثال تو سب دیتے ہیں رینیسانس سے لے کر تاحال ان کی کلیسا سے پادریوں سے جنگ سے متعلق بھی بتاتے ہیں لیکن خود کوئی ادیب یا شاعر عملا ایسا نہیں کرنا چاہتا جس میں اک تو نام کی خواہش دوسری یہ ڈر  کہ تعلقات نہ چھوٹ جائیں۔ سوسائٹی کیا کہے گی۔ 


امریکا کے بلیوز , جیز ، راک کے عام سے گلوکار کی عملی مزاحمت ہمارے بڑے سے بڑے ادیب سے زیادہ ہے جنہوں نے کنکریٹ کچھ ٹھوس تبدیلی کی کوشش کی ہے جون لینن بھری جوانی میں ویسے ہی مارا گیا؟ اسے غلط کہیں یا ٹھیک اس میں بات کرنے کا حوصلہ تھا ایسے لاتعداد فن کار مغرب میں تھے اور ہیں جو اپنے اظہار کے مقابل کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے آج بھی اس رائیل و فلس طین کے مسئلے پر جتنا مغرب کا آدمی بول رہا ہے کوئی مسلم ممالک سے نہیں بول رہا ۔ تو اس سب بےضمیری کے چلتے سکھ سے رہنے کی خواہش کوئی فن کار نہیں کر سکتا ۔ جہاں بولنے والے پاگل اور بے وقوف دکھائی دیں اور مفاہمت پسند منافق سنجیدہ اور دانش مند نظر آئیں اس سوسائٹی میں آرٹسٹ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا ۔ تب آپ کے پاس صرف جلسے جلوسوں کی دانش اور سیاست بچے گی مذہبی اجارا دار رہ جائیں گے ، اور صدی گزرنے میں کوئی وقت نہیں لگتا جن بنیادوں پر یہ دہائی گزرے گی اگلے پچاس ساٹھ سال ان سے نکلنے میں گزر جائیں گے ۔  یہ برصغیر کا نصیب ہے سادھو سنت فقیر سلائیں گے جیسا ابھی بھارت میں ہو رہا ہے ہمارے ہاں مُلا لڑائے گا ۔ آنے والی نسلوں کا خدا حافظ

توقیر رضا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza