Facebook Diary - #tauqirreza 05 Dec 2023

 فیس بک ڈائری | 05 دسمبر 2023

کمرشل فن کار وہ پیراسائٹس ہوتے ہیں جو سماج کی ذہانت کو جونکوں کی طرح چپکے ہوتے ہیں اور اسے ہائی جیک کر لیتے ہیں ۔ سرمایہ دارانہ نظام ان کی پشت پناہی کرتا ہے جب تک ان کو نہیں ہٹایا جاتا وہاں ہر آواز بے کار ہے کیونکہ سرمایہ کارانہ نظام جو خالص مفاد پرستی پر مبنی ہے اسے کوئی سنجیدہ بیانیہ نہیں چاہیے ہماری ریاستیں بھی ویسی ہی ہیں ۔اس نظام میں شور بہت ہوتا ہے فن کی قدر کرنے کا التباس بہت ہوتا ہے یہ میلے ٹھیلے اسی کے غماز ہیں لیکن ان میں اورجنیلٹی مفقود ہوتی ہے ہمارے ادیب  فن کار جب تک اس بنیادی نظام کے خلاف نہیں لڑتے ان کی فن و ادب کی بہتری کے لیے لکھی تحریریں ضائع ہو جائیں گی یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جسے مغرب نے سمجھ کر درست کیا ہے اگرچہ یہاں بھی کمرشل ازم ہے مگر کسی راہ اور ڈھنگ سے ہے اور ان کے کمرشل آرٹسٹ ، فن کار اداکار بھی بہت بلا کے پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں ہاں ان کی نظر وقت کے ساتھ گہری ہوتی ہے  یہاں مارلن منرو جیسی اداکارا ، دالیدہ جیسی گلوکارا اپنے عروج پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں اگرچہ یہ غلط ہے مگر یہ فرار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہرت سے متعلق انہیں سمجھ آ جاتی ہے کہ یہ دوڑ دھوپ سب رایگاں ہے اور اس کا فی الاصل فن اور سماج سے کوئی تعلق نہیں ۔ کمرشل  لوگوں کی اپنی مارکیٹ ہے اور اس کے پیرالیل تخلیق کار ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن مغرب اور ہم میں فرق یہ ہے کہ ہم وہ ناظر وہ قاری نہیں پیدا کر سکے جو دونوں کے مابین فرق جان پائے انہیں الگ کر پائے ۔ 

توقیر رضا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza