پانچ نظمیں _توقیر رضا | Tauqir Reza Poems
زندان کی عُریاں وحشت
جاگ رہے ہیں
بے ہنگم سے خواب کی اینٹیں
ایک عمارت عُریانی کی
جس کی دیواروں کے اوپر
دو جسموں کے ننگے سایے
بھاگ رہے ہیں
قید کہاں تک پھیل چکی ہے
نظموں کے زندان میں لوہے جیسی سطریں
لفظ کا چھلنی چھلنی سینہ
رنگ اور خون کی اٹکل بازی
آنکھوں میں تعمیر کا خنجر
ننگ دھڑنگ جلّاد کی مونچھوں ، کالے دانتوں جیسی وحشت !
زندہ رہنے کی خواہش بھی چاٹ چکی ہے
بھاگ رہے ہیں
دو جسموں کے ننگے سایے
بے چھت کی دیواروں جیسی عریانی میں
جاگ رہے ہیں
نظموں کے زندان کے قیدی !
—-/////—
تیسری جنس کا التباس
بھیڑ میں ایلین ہونے کا احساس
تالی کی گونج میں چھپا دکھ
شادی کے گیت پر تھرکتی مُورتیں
اور اُن کے دلوں میں
بے تھکان جاری نوحہ
جو کسی کو سنائی نہیں دیتا۔۔
( اور ہم نے ہر ایک کا جوڑا بنایا
کیا خدا تیسری جنس ہے
کیا خدا ایلین ہے )
لوگ بازار کو پسند کرتے ہیں
بھیڑ میں ایک دوسرے کے اعضا ٹٹولتے ہیں
وہیں کہیں کوئی
گھنگھرو چھنکاتا ہوا گزرتا ہے
جس کی چھنک سے آسمان کے بُرج ہلنے لگتے ہیں
منارے ڈولنے لگتے ہیں
کوئی اپنی تنہائی میں کُرلاتا ہے
جوڑے اِس اکلاپے کا دکھ نہیں سمجھ سکتے
مجھے کسی کے اعضا ٹٹولتے ہوئے خیال آیا
خدا جو کبھی شادی و مرگ میں شریک نہیں ہوتا
بھیڑ ہو یا تنہائی
اس کا التباس ہر جگہ ہوتا ہے
جہاں دو لوگ ہوں ، وہاں تیسرا ! وہ ہوتا ہے
——////——
بھوک کی بیڑی اور صندوق
میں اپنی جیب کے خلا سے واقف ہوں
مجھے دور کے ڈھول سہانے نہیں لگتے
میں اپنا آبائی مکان
اور خدا کے ہاتھوں جتنے کشادہ میدان
اس لیے چھوڑ کر نہیں بھاگا
کہ وادی کے اُس طرف
بج رہی ڈھولک کی تھاپ پر ناچ سکوں
مجھے کسی حسینہ کی چھاتیوں نے آواز دے کر نہیں بلایا
دنیا کی تمام حسینائیں
جیب کے خالی پن سے نفرت کرتی ہیں
میں تو آیا ہوں کہ
پیروں سے بندھی بھوک کی بیڑی کو توڑ سکوں
( ازار بند خریدنے کی اوقات نہ ہو تو
صندوق کون خریدے )
خالی صندوق کی تھپ تھپ پر رقص کرنے والے لوگ
سوٹ کیسوں میں مہنگے پرفیوم بھر کر لائے ہیں
دور کے ڈھول سہانے نہ سہی
خالی صندوقوں جتنے بے سُرے تو نہیں
یہی خیال کھینج کر لے جاتا ہے
پہاڑی کے اس پار !
جہاں ہمارے نام کی بَلّی دی جاتی ہے
جِپسیز ! ہمیں جلتے ہوئے دیکھ کر ہنستے ہیں
( کہ مہاجر جسموں کو جلانے سے
شہر کی بلائیں دور ہوتی ہے )
——////——
آنگن میں راکھ
( کارونجھر جبّل کے لیے لکھی نظم )
یہ وہ وقت نہیں
جب لوہے کی باڑ سے دوسری جانب
بسنے والوں سے
مدد کی بھیک مانگی جائے
اپنے گھر کی خبر خود لو !
قینچی کی تلاش میں ہم کس قدر دور نکل آئے
اس اُدھیڑ بُن میں ہماری مٹی کے زخم کُھل گئے ہیں
ادھر آو
سڑکوں پر بہتا لہو تمہیں آواز دے رہا ہے
تم جو ان میدانوں اور کھیت کھلیانوں میں خوشی کے گیت گاتے پھرتے ہو
سنو ! کیا تمہیں کچھ اندازا ہے
کہ دریا کے اس پار کیا گزری ؟
وہ پہاڑوں کے بیٹے کیا ہوئے ؟
جب تم اپنے آئینوں پر جمی دھول دھو رہے تھے
آگ تمہارے پڑوسی کا گھر جلا رہی تھی
کشتی کچھ اور لاشیں لے کر آئی ہے
جاو جا کر استقبال کرو
سلامی پیش کرو
( کہ اس سے زیادہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں )
میں دریا کا بیٹا ہوں اور اپنی کل متاع دریا کے سپرد کرتا ہوں
مجھے اک پہاڑ کی مدد کو جانا ہے
قبول کرنا ! میرے دوست
شام ہونے سے پہلے میں
آنگن کی سب راکھ سمیٹ کر
تم سے آ ملوں گا
——////——
پشپاولی کے جنے پھول
( love triangle )
سُنو میرے دوست *
ہم ہار جاتے ہیں
ان آنکھوں کے سامنے
جو ہمیں سب سے زیادہ دیکھنا چاہتی ہیں
ہم فرار ہو جاتے ہیں
وہاں سے
جہاں ! حُسن دو آنکھوں میں تقسیم کر دیا جائے
پشپاولی * کے جَنے پھول جب تک ہماری جھولی میں گرتے ہیں
ہم خود مرجھا چکے ہوتے ہیں
ہماری قسمت کی ریکھائیں*
ہر بار ہمیں
خودکشی کے موڑ پر
اکیلا چھوڑ کر
کسی اور کا ہاتھ تھام لیتی ہیں
اکلاپے کی سرزمینوں میں
وحشت کے بیج کاشت کرتے ہوئے ہم
یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عورت !
اپنا پہلا پیار کبھی نہیں بھولتی ۔
——
پشپاولی : اداکارا ریکھا کی ماں کا نام / پھولوں کی اک بیل
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں