نثری نظم : بے پیندے کی کھوپڑی

 نظم : بے پیندے کی کھوپڑی 


سُنو ! اے بدحواس دانشور 

تمہارے شانوں پہ رکھی بے پیندے کی کھوپڑی 

ذرا سی ہوا چلنے سے ڈول جاتی ہے 


نتیجتاً جو کچھ تمہارے اندر ہے سب 

چوراہے پر پھیل جاتا ہے 


جس سے پھسل کر تم خود سڑک پر گر جاتے ہو 

اور تمہاری کھوپڑی 

لڑھکتی ہوئی کسی نالے میں گر جاتی ہے 


ہر شہر میں سڑک کے کنارے ایسے بہت سے گندے نالے ہیں 

جن میں ایسی بہت سی 

بے پیندے کی کھوپڑیاں جمع ہو رکھی ہیں 


اور فضا میں دور دور تک غلیظ تعفن پھیل چکا ہے ۔ 


توقیر رضا

Tauqir Reza

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

70 نظمیں | توقیر رضا | اردو + پنجابی

101 اشعار - توقیر رضا

پَنج پنجابی نظماں - توقیر رضا | #tauqirreza